
مرکزاطلاعات فلسطین
بنک آف اسرائیل کی جانب سے سنہ 2025ء کے لیے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023 ءکو غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے اسرائیلی معیشت اور افراد کو بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا سامنا ہے جبکہ رپورٹ میں عوامی مالیات اور معیار زندگی پر اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔
پیر کے روز شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2025ء کے اختتام تک فی کس آمدنی میں نظریاتی نقصان کا اوسط تقریباً 35 ہزار شیکل رہا۔ یہ تخمینہ براہ راست آمدنی کی کمی کے بجائے جنگ کے مجموعی معاشی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نقصانات کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں میں اضافے کے ذریعے پورا کیا گیا، جو کہ بلند شرح سود کے ساتھ لیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں اس کی قیمت بھاری ٹیکسوں اور عوامی خدمات کے معیار میں ممکنہ کمی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر سنہ 2027ء اور سنہ 2028ء کے بجٹ میں مالیاتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ لاگت مزید بڑھ جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک مجموعی مقامی پیداوار (GDP) میں ہونے والا مجموعی نقصان 177 ارب شیکل تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم جنگ کے براہ راست اخراجات سے الگ ہے جو سنہ 2023ء اور سنہ 2026ء کے درمیان تقریباً 350 ارب شیکل رہے، جس میں سکیورٹی اخراجات، معاوضے، ریزرو فوجیوں کی ادائیگیاں اور تعمیر نو کے اخراجات شامل ہیں۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ آخری رقم اصل اخراجات کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ پیداوار میں ہونے والا نقصان اس معاشی قدر کی نمائندگی کرتا ہے جو جنگ کی وجہ سے حاصل نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی چینل 12 کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معیشت ابھی تک مندی کی کیفیت سے باہر نہیں نکلی، حالانکہ سنہ 2024ء میں ایک فیصد شرح نمو کے مقابلے میں سنہ 2025 میں 2.9 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، لیکن یہ سطح ابھی تک جنگ سے پہلے کے حالات سے کافی کم ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون سنہ 2025 میں ایران کے خلاف ہونے والی جنگ، جس کی وجہ سے جی ڈی پی کا 0.3 فیصد نقصان ہوا، اس کے اثرات نکالنے کے باوجود معاشی نمو طویل مدتی رجحان سے نیچے ہے۔
رپورٹ نے اس کمزور کارکردگی کی وجہ لیبر مارکیٹ میں جاری قلت کو قرار دیا ہے، کیونکہ ماہانہ بنیادوں پر دسیوں ہزار ریزرو فوجی لیبر مارکیٹ سے باہر ہیں، جبکہ اکتوبر سنہ 2023ء سے فلسطینی کارکنوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے اور غیر ملکی کارکن اس خلا کو پر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے باوجود لیبر مارکیٹ اپنی بحالی میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
اسی تناظر میں، عوامی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب جنگ سے پہلے کے 60 فیصد سے بڑھ کر 68.5 فیصد ہو گیا ہے۔ جنگ کے تقریباً نصف اخراجات قرضوں کے ذریعے پورے کیے گئے، جبکہ سود کی ادائیگیوں میں اضافے نے قابض اسرائیل کو اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے ممالک میں سب سے اوپر کے ایک تہائی ممالک میں شامل کر دیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت نے سنہ 2026ء کا بجٹ تیار کرتے وقت قرضوں کو کم کرنے کے راستے پر ڈالنے کا موقع ضائع کر دیا، یہاں تک کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ کی شروع کردہ جنگ سے پہلے بھی کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔
بنک آف اسرائیل کے گورنر، امیر یارون نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں سکیورٹی بجٹ میں اضافہ اور محدود مالیاتی اصلاحات کی وجہ سے سنہ 2026ء میں مسلسل چوتھے سال قرضوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اخراجات جو معاشی نمو میں مددگار نہیں ہیں، انہیں کم کر کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے محرکات میں سرمایہ کاری کر کے وسیع تر اقدامات کیے جا سکتے تھے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معیشت کو درپیش چیلنجز "کثیر الجہتی” ہیں جن کے اثرات نسلوں تک رہیں گے، جن میں بیک وقت قرضوں میں کمی، سکیورٹی اخراجات میں اضافہ، معیار زندگی کو برقرار رکھنا اور بنیادی ڈھانچے و پیداواری صلاحیت کے خلا کو کم کرنا شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی آمدنی میں نمایاں اضافے، بشمول استثنیٰ کے خاتمے اور ٹیکس نظام کی تشکیل نو کے بغیر ان اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں ان طویل مدتی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جن کے تحت لیبر مارکیٹ میں شامل نہ ہونے والے کٹر مذہبی یہودیوں (حریدیوں) کے مخصوص گروہوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معیشت پر بڑھتا ہوا بوجھ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افرادی قوت اور آمدنی میں اضافے کی شدید ضرورت ہے۔
بنک آف اسرائیل کے محققین نے مطالبہ کیا کہ حریدی تعلیم کی فنڈنگ کو ایسے بنیادی مضامین کی تدریس سے مشروط کیا جائے جو لیبر مارکیٹ میں ان کے شامل ہونے کے مواقع بڑھائیں، جبکہ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے شہری اخراجات میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں جو معاشی نمو کو فروغ نہیں دیتے، خصوصاً وہ رقم جسے "اتحادی فنڈز” کہا جاتا ہے۔

