مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل 131 ویں روز بھی جاری ہے۔ میدانی صورتحال میں بار بار کیے جانے والے اس اضافے میں توپ خانے کی گولہ باری، فضائی حملے اور مختلف علاقوں میں فائرنگ شامل ہے، جس نے جانی نقصانات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور ایک ایسی کمزور سکیورٹی صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں جنگ بندی کے کوئی معنی باقی نہیں رہے۔
جمعرات کی علی الصبح قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں کو فضائی حملوں اور توپ خانے کی شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا۔
توپ خانے کی یہ گولہ باری جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں کی گئی، جہاں قابض افواج کے دستے موجود ہیں۔
اس کے ساتھ ہی جنوبی غزہ کے شہر رفح میں قابض افواج کی موجودگی والے مقامات پر فضائی حملہ کیا گیا جبکہ ایک اور فضائی حملے میں غزہ شہر کے مشرقی حصے کو نشانہ بنایا گیا۔
گذشتہ روز بدھ کو ناصر میڈیکل کمپلیکس کے ایک ذریعے نے اطلاع دی تھی کہ خان یونس کے مشرق میں واقع قصبہ بنی سہيلا میں یلو لائن کے قریب قابض افواج کی فائرنگ سے دو فلسطینی شہید ہو گئے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں باقی ماندہ مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہ رمضان المبارک کے پہلے دن کے آغاز کے ساتھ ہی خان یونس میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے تین شہری شہید ہو گئے، جبکہ غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری رہیں۔
یہ وحشیانہ کارروائیاں سیز فائر معاہدے کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جن میں گذشتہ اکتوبر کے بعد سے اب تک 603 فلسطینی شہید اور 1618 زخمی ہو چکے ہیں۔



