spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

فروری میں صہیونی دہشت گردی کی ہولناک لہر: دیوار و آباد مخالف مزاحمتی کمیشن کی رپورٹ

مرکزاطلاعات فلسطین فلسطین میں قابض اسرائیل کی قائم کردہ نسلی...

اہل غزہ حج کی سعادت سے محروم: بقیہ کوٹہ القدس اور شمالی اضلاع کے لیے مختص

مرکزاطلاعات فلسطین فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے منگل...

بیت لحم کے قصبے نحالین پر اسرائیلی دھاوا، دم گھٹنے سے درجنوں فلسطینی متاثر

مرکزاطلاعات فلسطین مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے مغرب...

حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون مار گرانے اور دو میرکافا ٹینکوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

مرکزاطلاعات فلسطین حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں...

فروری میں صہیونی دہشت گردی کی ہولناک لہر: دیوار و آباد مخالف مزاحمتی کمیشن کی رپورٹ

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطین میں قابض اسرائیل کی قائم کردہ نسلی دیوار اوریہودیآباد کاری مخالف مزاحمتی کمیشن کے سربراہ وزیر مؤید شعبان نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے گذشتہ ماہ فروری کے دوران فلسطینی عوام، ان کی زمینوں اور املاک کے خلاف مسلسل دہشت گردی کے سلسلے میں 1965 حملے کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں فلسطینیوں پر براہِ راست تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، کھیتوں کو آگ لگانا، زیتون چننے والوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا، املاک پر قبضہ، گھروں اور زرعی تنصیبات کی مسماری شامل ہے۔ آباد کاروں نے تخریب کاری اور چوری کی 355 کارروائیاں کیں اور قابض اسرائیلی فوج کی مدد سے 1314 درختوں کو اکھاڑنے، تباہ کرنے یا زہر دینے کا ارتکاب کیا۔

قابض حکام نے فروری میں قبضے کے احکامات کے ذریعے 2022 دونم زمین ہتھیا لی۔ اس میں سبسطیہ کے تاریخی مقام کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، 72 مسماری کی کارروائیاں کی گئیں جن میں 122 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 56 رہائشی مکانات شامل تھے۔ بستیوں کی تعمیر کے 22 نئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کے ذریعے سینکڑوں نئے استعماری یونٹس کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

1314 درختوں کو اکھاڑنا اور املاک کی تباہی

شعبان نے نشاندہی کی کہ آباد کاروں کے 511 حملے الخلیل میں 138، نابلس میں 121 اور رام اللہ میں 98 کی تعداد میں ہوئے۔ آباد کاروں نے تخریب کاری اور چوری کی 355 کارروائیاں کیں اور قابض اسرائیلی فوج کی مدد سے 1314 درختوں کو اکھاڑنے، تباہ کرنے یا زہر دینے کا ارتکاب کیا۔ ان میں 1054 زیتون کے درخت تھے جن میں سے 731 رام اللہ، 200 بیت لحم، 183 الخلیل، 180 نابلس اور 20 طولکرم میں واقع تھے۔

پانچ نئی بستیوں کے قیام کی کوششیں

انہوں نے بتایا کہ فروری کے آغاز سے آباد کاروں نے زراعت اور گلہ بانی کے مقصد سے پانچ نئی بستیاں قائم کرنے کی کوشش کی جن میں سے دو الخلیل، دو نابلس اور ایک طوباس میں تھیں۔ انہوں نے اسے سیاسی ہدایات کا نتیجہ قرار دیا تاکہ زمین پر مستقل حقائق مسلط کیے جا سکیں۔

2022 دونم زمین پر غاصبانہ قبضہ

مؤید شعبان کے مطابق قابض حکام نے فروری میں قبضے کے احکامات کے ذریعے 2022 دونم زمین ہتھیا لی۔ اس میں سبسطیہ کے تاریخی مقام کی ضبطگی بھی شامل ہے جہاں 2000 دونم سے زائد زمین پر قبضہ کیا گیا، جسے فلسطینی زمینوں میں نوادرات پر قبضے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

122 تنصیبات کی مسماری اور نئے نوٹسز

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض حکام نے مسماری کی 72 کارروائیاں کیں جن میں 122 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں 56 رہائشی مکانات، 9 غیر آباد گھر، 34 زرعی تنصیبات اور 18 ذرائع آمدن شامل تھے۔ یہ مسماریاں القدس میں 46، الخلیل میں 38 اور طوباس میں 9 تھیں۔ علاوہ ازیں مسماری کے 49 نئے نوٹسز جاری کیے گئے جن میں سے 22 بیت لحم، 10 الخلیل اور 8 القدس میں دیے گئے۔

22 بستیوں کے منصوبوں کا جائزہ

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قابض دشمن کے منصوبہ بندی کے اداروں نے مغربی کنارے اور القدس کی بلدیہ کی حدود میں 22 ڈھانچہ جاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ 7 منصوبوں کی منظوری دی گئی جس سے 1154 دونم رقبے پر 642 نئے استعماری یونٹس کی راہ ہموار ہوئی۔ القدس میں بھی 613 استعماری یونٹس کی منظوری دی گئی۔ ان میں سب سے اہم الخلیل کے قصبے الشیوخ کی زمین پر اصفر/متساد بستی میں 509 یونٹس اور سلفیت کے گاؤں یاسوف کی زمین پر کفار نفوح بستی میں 133 یونٹس کی تعمیر ہے۔

spot_imgspot_img