مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطین میں قابض اسرائیل کی قائم کردہ نسلی دیوار اوریہودیآباد کاری مخالف مزاحمتی کمیشن کے سربراہ وزیر مؤید شعبان نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے گذشتہ ماہ فروری کے دوران فلسطینی عوام، ان کی زمینوں اور املاک کے خلاف مسلسل دہشت گردی کے سلسلے میں 1965 حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں فلسطینیوں پر براہِ راست تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، کھیتوں کو آگ لگانا، زیتون چننے والوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا، املاک پر قبضہ، گھروں اور زرعی تنصیبات کی مسماری شامل ہے۔ آباد کاروں نے تخریب کاری اور چوری کی 355 کارروائیاں کیں اور قابض اسرائیلی فوج کی مدد سے 1314 درختوں کو اکھاڑنے، تباہ کرنے یا زہر دینے کا ارتکاب کیا۔
قابض حکام نے فروری میں قبضے کے احکامات کے ذریعے 2022 دونم زمین ہتھیا لی۔ اس میں سبسطیہ کے تاریخی مقام کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں، 72 مسماری کی کارروائیاں کی گئیں جن میں 122 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 56 رہائشی مکانات شامل تھے۔ بستیوں کی تعمیر کے 22 نئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کے ذریعے سینکڑوں نئے استعماری یونٹس کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
1314 درختوں کو اکھاڑنا اور املاک کی تباہی
شعبان نے نشاندہی کی کہ آباد کاروں کے 511 حملے الخلیل میں 138، نابلس میں 121 اور رام اللہ میں 98 کی تعداد میں ہوئے۔ آباد کاروں نے تخریب کاری اور چوری کی 355 کارروائیاں کیں اور قابض اسرائیلی فوج کی مدد سے 1314 درختوں کو اکھاڑنے، تباہ کرنے یا زہر دینے کا ارتکاب کیا۔ ان میں 1054 زیتون کے درخت تھے جن میں سے 731 رام اللہ، 200 بیت لحم، 183 الخلیل، 180 نابلس اور 20 طولکرم میں واقع تھے۔
پانچ نئی بستیوں کے قیام کی کوششیں
انہوں نے بتایا کہ فروری کے آغاز سے آباد کاروں نے زراعت اور گلہ بانی کے مقصد سے پانچ نئی بستیاں قائم کرنے کی کوشش کی جن میں سے دو الخلیل، دو نابلس اور ایک طوباس میں تھیں۔ انہوں نے اسے سیاسی ہدایات کا نتیجہ قرار دیا تاکہ زمین پر مستقل حقائق مسلط کیے جا سکیں۔
2022 دونم زمین پر غاصبانہ قبضہ
مؤید شعبان کے مطابق قابض حکام نے فروری میں قبضے کے احکامات کے ذریعے 2022 دونم زمین ہتھیا لی۔ اس میں سبسطیہ کے تاریخی مقام کی ضبطگی بھی شامل ہے جہاں 2000 دونم سے زائد زمین پر قبضہ کیا گیا، جسے فلسطینی زمینوں میں نوادرات پر قبضے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔
122 تنصیبات کی مسماری اور نئے نوٹسز
رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض حکام نے مسماری کی 72 کارروائیاں کیں جن میں 122 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں 56 رہائشی مکانات، 9 غیر آباد گھر، 34 زرعی تنصیبات اور 18 ذرائع آمدن شامل تھے۔ یہ مسماریاں القدس میں 46، الخلیل میں 38 اور طوباس میں 9 تھیں۔ علاوہ ازیں مسماری کے 49 نئے نوٹسز جاری کیے گئے جن میں سے 22 بیت لحم، 10 الخلیل اور 8 القدس میں دیے گئے۔
22 بستیوں کے منصوبوں کا جائزہ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قابض دشمن کے منصوبہ بندی کے اداروں نے مغربی کنارے اور القدس کی بلدیہ کی حدود میں 22 ڈھانچہ جاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ 7 منصوبوں کی منظوری دی گئی جس سے 1154 دونم رقبے پر 642 نئے استعماری یونٹس کی راہ ہموار ہوئی۔ القدس میں بھی 613 استعماری یونٹس کی منظوری دی گئی۔ ان میں سب سے اہم الخلیل کے قصبے الشیوخ کی زمین پر اصفر/متساد بستی میں 509 یونٹس اور سلفیت کے گاؤں یاسوف کی زمین پر کفار نفوح بستی میں 133 یونٹس کی تعمیر ہے۔



