مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ فروری کے دوران مسجد اقصیٰ اور حرم ابراہیمی پر قابض اسرائیل کے حملوں کی نوعیت اور حجم میں خطرناک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خاص طور پر ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ان جارحانہ کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی گئی ہے۔
وزارت نے مسجد اقصیٰ اور حرم ابراہیمی میں ہونے والی پامالیوں کے حوالے سے اپنی ماہانہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے فروری کے دوران 24 سے زائد مرتبہ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا جبکہ حرم ابراہیمی میں 45 اوقات میں اذان دینے پر پابندی عائد کی۔
رپورٹ کے مطابق انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں گھسنے کی کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر صبح اور شام کے اوقات میں کی گئیں جن میں ہزاروں شرپسندوں نے شرکت کی۔ اس دوران مسجد کے صحنوں میں کھلم کھلا تلمودی رسومات ادا کی گئیں جن میں زمین پر لیٹ کر سجدے کرنا، گانے گانا، اجتماعی رقص اور مذہبی تحریروں و دعاؤں کی نمائش شامل تھی۔ وزارت نے اسے مسجد کے اندر ایک نئی مذہبی حقیقت مسلط کرنے اور موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 17 اور 18 فروری کو عبرانی مہینے کے آغاز کے موقع پر سب سے زیادہ صیہونیوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔ یہ سب قابض اسرائیلی افواج کی سخت سکیورٹی میں ہوا جنہوں نے نمازیوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں عائد کیں، سینکڑوں فلسطینیوں کو مسجد سے بے دخل کر دیا اور قدیم شہر کی طرف آنے والوں کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی، خاص طور پر باب الساہرہ اور باب السلسلہ پر سخت ناکہ بندی کی گئی۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی دستاویز سازی کی گئی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے جمعہ کے خطبوں اور نمازوں کے دوران مصلیٰ قبلی اور قبۃ الصخرہ کے گرد و نواح میں اپنی جارحانہ موجودگی برقرار رکھی، باوجود اس کے کہ وہاں دسیوں ہزار نمازی موجود تھے۔ رمضان کے جمعوں میں نمازیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ عشاء اور تراویح میں بھی ہزاروں مسلمان شریک ہوتے رہے۔
اسی تناظر میں رپورٹ میں مسجد کے اطراف میں بڑھتی ہوئی پامالیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں دیوار براق کے پاس مذہبی تقریبات کا انعقاد، القدس کے محلوں اور بستیوں پر چھاپے اور نمازیوں کو روکنے کے لیے فوجی رکاوٹوں میں اضافہ شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ قابض حکومت کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے پولیس چیف اور اعلیٰ افسران کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں کا اشتعال انگیز دورہ کیا اور وہاں ایک فیلڈ میٹنگ بھی منعقد کی۔
وزارت نے قرار دیا کہ رمضان کے دوران خود مختاری نافذ کرنے اور اقدامات سخت کرنے کے حوالے سے ایتمار بن گویر کے بیانات اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہیں جو مقدس مسجد کے خلاف اشتعال انگیزی کو ظاہر کرتی ہے۔
حرم ابراہیمی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے 45 مرتبہ اذان دینے سے روکا اور مسجد کے اس حصے میں شور و غل والی پارٹیاں منعقد کیں جس پر ان کا ناجائز قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی دروازے اور بازار کی طرف کھلنے والے گیٹ کو روزانہ کئی بار بند رکھا گیا۔
قابض دشمن نے حرم کے بعض خادموں کو داخل ہونے سے روک دیا اور رمضان کے پہلے دو جمعوں میں ریڈ کراس اور ایمبولینس کے عملے کو وہاں پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔ مزید برآں، ایران اسرائیل جنگ کے بہانے رمضان کے گیارہویں روز سے حرم ابراہیمی کو مسلمانوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
عبادت گاہوں پر حملوں کے سلسلے میں انتہا پسند آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں واقع تل گاؤں کی مسجد ابوبکر صدیق کے ایک حصے کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر نسلی منافرت پر مبنی نعرے درج کیے۔ اسی طرح آباد کاروں نے القدس کے مغرب میں واقع اجاڑ دیے گئے گاؤں عین کارم کے چرچ آف وزٹیشن کو نشانہ بنایا اور اس کی دیواروں اور گاڑیوں پر بھی اشتعال انگیز نعرے لکھے۔
وزارت اوقاف نے واضح کیا ہے کہ فروری سنہ 2026ء کے دوران ہونے والے یہ تمام واقعات مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کو جبراً نافذ کرنے اور اس کی اسلامی شناخت کو تبدیل کرنے کی ایک منظم صہیونی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزارت نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔



