فلسطین نواز رہنماؤں کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ, دفاعی ٹیم کی جانب سے کارروائی کو سیاسی قرار دینے کا الزام

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

برطانیہ میں ایک جج نے فلسطین کے حق میں سرگرم اتحاد کے دو سرکردہ رہنماؤں کے خلاف فیصلے کے لیے یکم اپریل کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ ان رہنماؤں پر لندن میں ایک مظاہرے کے دوران پبلک آرڈر ایکٹ (قانونِ نظمِ عامہ) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جج ڈینئیل اسٹینبرگ نے یہ فیصلہ منگل کے روز دفاعی ٹیم کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا جس میں وکلاء نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں "فلسطین سالیڈیٹری کیمپین” کے ڈائریکٹر بن جمال اور "اسٹاپ دی وار کولیشن” کے نائب صدر کریس نانیہام کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر پبلک آرڈر ایکٹ کی خلاف ورزی اور احتجاجی پابندیوں کو توڑنے کے ساتھ ساتھ اشتعال انگیزی کے الزامات ہیں جو 18 جنوری سنہ 2025ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے خلاف نکالی گئی ایک قومی ریلی کے دوران لگائے گئے تھے۔

پولیس کمانڈر ایڈم سلونسکی نے جو اس وقت پبلک آرڈر ایکٹ کے نفاذ کے ذمہ دار تھے مظاہرین کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کرنے سے روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی تھیں۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہ مقام وسطی لندن میں واقع مرکزی کنائس (یہودی عبادت گاہ) اور "شاباد” نامی یہودی مرکز کے قریب ہے۔

سلونسکی نے دعویٰ کیا کہ ان کی تشخیص کے مطابق یہ احتجاج کنائس اور وہاں آنے والے افراد کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز اور یہودی برادری کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔

دوسری جانب دفاعی ٹیم کے سربراہ مارک سومرز نے اپنے اختتامی دلائل میں اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا حق ایک "قیمتی حق” ہے اور ایک پرامن و قانونی قومی ریلی کو روکنے کے لیے ضرورت کی بہت اعلیٰ سطح کی دلیل ہونا لازمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس بی بی سی کے سامنے احتجاج روکنے کے لیے اس سطح کی ضرورت کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دفاع نے موقف اختیار کیا کہ حکام یہودی برادری کو احتجاج روکنے اور فلسطین نواز تحریک کو مجرم قرار دینے کے لیے بطور "سیاسی ایندھن” استعمال کر رہے ہیں۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ بی بی سی کے سامنے احتجاج کی اجازت دینے کی صورت میں یہودی برادری نے اپنی سکیورٹی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

تاہم دفاعی ٹیم نے عدالت کے سامنے ایسے شواہد پیش کیے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے یہودی برادری کے ان دیگر حلقوں کی رائے معلوم نہیں کی جو مستقل بنیادوں پر فلسطین نواز مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں۔

دفاع نے 18 دسمبر کے مظاہرے سے قبل پولیس کو لکھے گئے ایک کھلے خط کا بھی حوالہ دیا جس میں فلسطین نواز اتحاد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس خط پر "جوش بلاک فار جسٹس فار فلسطین” (فلسطین میں انصاف کے لیے یہودی تكتل) سمیت یہودی شخصیات، صحافیوں، سابق ججوں، سیاست دانوں اور فنکاروں کے دستخط موجود تھے۔