
مرکزاطلاعات فلسطین
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ڈیوڈ ہالفینگر اور رونن برگمین کی تیار کردہ ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل طویل عرصے تک ایران کے جوہری پروگرام پر کڑی تنقید کے باوجود تہران کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے کتراتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس ہچکچاہٹ کی وجہ ایران کے سیاسی و عسکری حلیف حزب اللہ کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا خوف تھا کہ کہیں وہ حیفہ اور تل ابیب جیسے بڑے اسرائیلی شہروں پر ہزاروں میزائلوں اور راکٹوں کی برسات نہ کر دے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق آج عسکری مساوات تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کی فضائی حدود پر قابض ہیں اور ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ڈھانچے اور ان کے گوداموں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جب حزب اللہ نے پیر کی صبح شمالی اسرائیل کی سمت راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے محدود کارروائی کی تو تل ابیب نے اسے اپنی فوجی کارروائیوں میں توسیع کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر استعمال کیا۔ قابض اسرائیل نے فوری طور پر بیروت اور لبنان کے دیگر علاقوں میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کا اعلان کر دیا۔
مضمون نگاروں کا خیال ہے کہ قابض اسرائیل امریکہ کے ساتھ اپنی عسکری شراکت داری اور اپنے حریفوں کی کمزوریوں کے ادراک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تصادم کو خطے میں اپنے جیو پولیٹیکل ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی اسٹریٹجک سوچ میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جس نے اسرائیل کی بڑی استخباراتی ناکامیوں کو بے نقاب کر دیا تھا۔ ان حملوں کے بعد قابض اسرائیل اب اپنے دشمنوں کے ارادوں کا درست اندازہ لگانے کے لیے اپنے انٹیلی جنس اداروں پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے دشمنوں کی عسکری صلاحیتوں کو اس وقت پہلے سے ہی (استباقي طور پر) تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جب اسے محسوس ہو کہ وہ مستقبل میں اس کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رینڈ کارپوریشن سے وابستہ اسرائیلی تجزیہ کار شیرا ایفرون کا کہنا ہے کہ یہ بحث اب غیر اہم ہو چکی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہے یا نہیں کیونکہ قابض اسرائیل اور امریکہ پہلے ہی اپنی فوجی کارروائیوں کا جواز ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی ضرورت سے پیش کر رہے ہیں۔
حملے کی منصوبہ بندی اور امریکی تعاون
تین اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ سال کے آخر میں فوجی قائدین کو حکم دیا تھا کہ وہ اپریل اور جون کے درمیان ایران پر یکطرفہ اسرائیلی حملے کی منصوبہ بندی شروع کریں۔ شروع میں فوجی قائدین اس خیال پر زیادہ پرجوش نہیں تھے کیونکہ انہیں شک تھا کہ اسرائیل اکیلے بڑے نتائج حاصل کر سکے گا اور انہیں ایرانی میزائل حملوں کا بھی خوف تھا۔
لیکن صورتحال اس وقت بدلی جب یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ بھی اس حملے میں شریک ہوگا اور اس نے خطے میں اپنی فوجیں جمع کرنا شروع کر دیں۔ اس موقع پر اسرائیلی فوجی قیادت نے ایران کو کاری ضرب لگانے کے لیے حالات کو سازگار پایا۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی تعاون بشمول فضا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کے بیڑے کی تعیناتی نے اسرائیل کو اب تک کے سب سے بڑے فضائی آپریشن اور ایرانی میزائل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنانے کے قابل بنایا۔
لبنان میں پہلے سے تیار کردہ منصوبے
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی مہم ان پیشگی منصوبوں کا حصہ ہے جو اسرائیل نے مہینوں پہلے تیار کر رکھے تھے اور وہ صرف ان پر عمل درآمد کے لیے کسی بہانے کے منتظر تھے۔ اسرائیل کی سابق نائب قومی سلامتی مشیر اور محققہ اورنا مزراہی کے مطابق اسرائیل اس موقع کا انتظار کر رہا تھا اور انہوں نے حزب اللہ کے راکٹ حملے کو ایک غیر محسوب مہم جوئی قرار دیا۔
سنہ 2024ء میں اکتوبر اور نومبر کے دوران آٹھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد سے اسرائیل مسلسل حزب اللہ پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا رہا ہے اور لبنان کے اندر نام نہاد اہداف پر حملے کرتا رہا ہے۔ اس کے برعکس حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی غارت گری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس کا حالیہ حملہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کا جواب تھا۔ لبنانی حکومت کے مطابق اس حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور پیر کے روز 52 افراد شہید ہوئے۔
قوت کے گھمنڈ پر تنبیہ
اپنی عسکری طاقت پر اسرائیل کے غیر معمولی اعتماد کے باوجود کچھ تجزیہ کار حد سے زیادہ خود اعتمادی کے خطرات سے خبردار کر رہے ہیں۔ شیرا ایفرون کا کہنا ہے کہ صرف فوجی طاقت خطے کی نئی تشکیل کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اسرائیل کو عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی معاہدوں کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سوچنا حماقت ہے کہ تقریباً ایک کروڑ آبادی والی ریاست صرف طاقت کے بل بوتے پر پورے خطے کو بدل سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بہت سے لوگ ایران کو پسند نہیں کرتے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسرائیل کی یہ سفاکیت اور جارحانہ رویہ قابل قبول ہوگا۔

