
مرکزاطلاعات فلسطین
انسانی حقوق کی تنظیم یورومیڈ ٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر (یورومیڈ مانیٹر) نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی مہم کے دوران قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 93.5 فیصد قبرستانوں کی مکمل یا جزئی تباہی کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یہ تباہ کن کارروائیاں اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری سفاکیت کا حصہ ہیں۔
یورومیڈ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ قبروں کو بلڈوز کرنے اور تباہ کرنے کا یہ منظم عمل نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ فلسطینیوں کی شناخت مٹانے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کا آغاز مردوں کی بے حرمتی اور ان کے نشانات مٹانے سے ہوتا ہے اور اس کا مقصد زندوں کو گہرا نفسیاتی اور روحانی صدمہ پہنچانا ہے تاکہ ان کا اپنے آباؤ اجداد اور اپنی زمین سے تاریخی تعلق منقطع ہو جائے۔
مانیٹر کے مطابق ان کی ٹیم نے غزہ کی پٹی کی پانچوں گورنریوں میں پھیلے ہوئے 62 سرکاری قبرستانوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے۔ نتائج کے مطابق اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر 39 قبرستانوں (مجموعی تعداد کا 62.9 فیصد) کو مکمل طور پر بلڈوز اور تباہ کیا، جبکہ 19 دیگر قبرستانوں (30.6 فیصد) کو جزوی نقصان پہنچایا۔ غزہ بھر میں اب صرف 4 قبرستان (محض 6.4 فیصد) ہی محفوظ بچے ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قبرستانوں کی یہ وسیع پیمانے پر تباہی کسی فوجی ضرورت یا اتفاقی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند فعل ہے جس کا مقصد انسانی باقیات کی شناخت اور ان کی دستاویز سازی کے عمل کو ناممکن بنانا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو مردوں کے احترام، قبروں کے تحفظ اور ان پر واضح شناختی علامات برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔
یورومیڈ مانیٹر نے خبردار کیا کہ قبروں کی بے حرمتی اور باقیات کو خلط ملط کرنے سے خاندان اپنے پیاروں کی آخری آرام گاہوں کی شناخت سے محروم ہو گئے ہیں، جو کہ ایک بدترین نفسیاتی تشدد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قابض فوج نے بہت سے کیسز میں اسرائیلی یرغمالیوں کی تلاش کے بہانے قبروں کو کھود کر انہیں فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران سینکڑوں لاشیں اغوا کی گئیں اور انہیں بغیر کسی شناختی ڈیٹا کے بے ترتیبی سے واپس کیا گیا، جس سے شناخت کا عمل ناممکن ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رفح گورنری کے تمام سرکاری قبرستان مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ خان یونس کے 24 میں سے 83.3 فیصد قبرستان مکمل اور بقیہ جزوی تباہ ہوئے۔ غزہ کی پٹی کے شمالی حصے کے تمام 10 قبرستان تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ شہر کے تمام 11 قبرستانوں کو بھی ملیا میٹ کر دیا گیا۔ وسطی گورنری میں 8 میں سے 4 قبرستانوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
یورومیڈ مانیٹر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستانوں کی تباہی، لاشوں کے اغوا اور بے حرمتی کو جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات کا حصہ بنایا جائے اور ذمہ دار اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ اسی طرح عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ان شواہد کو فلسطینی نسل کشی کے ثبوت کے طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
تنظیم نے ’یونیسکو‘ اور دیگر ثقافتی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ غزہ کے تاریخی قبرستانوں کو محفوظ ثقافتی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مجبور کرے کہ وہ اغوا کی گئی سینکڑوں لاشیں مکمل شناختی ڈیٹا کے ساتھ فوری واپس کرے اور قبرستانوں کی دوبارہ بحالی کے لیے راستہ فراہم کرے۔


