
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں واقع حرم ابراہیمی کی انتظامیہ کو مطلع کیا ہے کہ چھے روز کی مسلسل بندش کے بعد جمعہ کی نماز فجر سے مسجد کو نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ قابض فوج نے اس سے قبل نام نہاد سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر اسے مسلسل چھے دنوں تک بند رکھا تھا۔
حالیہ فیصلے کے مطابق نمازیوں کو صرف محدود تعداد میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس مقدس مذہبی مقام تک رسائی پر عائد دیگر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار رکھی گئی ہیں۔
قابض افواج نے گذشتہ دنوں کے دوران علاقے میں نام نہاد سکیورٹی تناؤ کا عذر تراش کر حرم ابراہیمی کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا اور نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سفاکیت نے فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا کیونکہ یہ بندش ایک ایسے وقت میں کی گئی جب مقدس مہینہ رمضان المبارک جاری ہے اور مسلمان بڑی تعداد میں عبادت کے لیے مساجد کا رخ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حرم ابراہیمی شہر الخلیل کی سب سے اہم مذہبی و تاریخی علامت ہے جسے قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے مسلسل فوجی کارروائیوں اور سخت پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر کشیدگی کے ایام میں اس مقدس مقام کی بندش یا نمازیوں کی رسائی کو محدود کرنا غاصب دشمن کا معمول بن چکا ہے تاکہ فلسطینیوں کی مذہبی آزادی سلب کی جا سکے۔


