قابض اسرائیل کی بستیوں کے گرد بفر زون کے قیام کے لیے مغربی کنارے میں سینکڑوں درختوں کی کٹائی

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ چند دنوں کے دوران مغربی کنارے کے مختلف علاقوں، بالخصوص رام اللہ اور شمال القدس میں سینکڑوں درخت جڑ سے اکھاڑ دیے ہیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید معاشی اور نفسیاتی نقصان پہنچا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یہودی بستیوں اور آباد کاروں کے زیرِ استعمال شاہراہوں کے گرد نام نہاد بفر زون (محفوظ علاقے) قائم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔

قابض حکام نے دو فوجی احکامات جاری کیے ہیں جن کے تحت رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبوں سلواد، عین سینیا اور عطارہ کی تقریباً 380 دونم اراضی، جبکہ شہر کے مغرب میں واقع نعلین کی 100 دونم اراضی سے درخت اکھاڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسی دوران، قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے شمال مغربی القدس میں واقع بیت اکسا اور بدو کے قصبوں کے درمیان زمین کے مالکان کو پیشگی اطلاع یا نوٹس دیے بغیر زیتون کے تقریباً 200 درخت اکھاڑ دیے۔

مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ کارروائی سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے کیونکہ ان میں سے کئی درخت کئی دہائیاں پرانے تھے۔ بیت اکسا کے ایک کسان عبدالکریم عجاج نے بتایا کہ قابض فوج کے بلڈوزروں نے علیحدگی پسند دیوار اور بیت اکسا و بدو کے درمیان فوجی سڑک کے ساتھ واقع ان کی زمین سے زیتون کے درجنوں درخت اکھاڑ پھینکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بیشتر درخت انہوں نے 25 سے 30 سال قبل دیوار کی تعمیر سے پہلے لگائے تھے اور ان کی زمین سے سالانہ تقریباً 30 بڑے کین زیتون کا تیل حاصل ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قابض فوج نے درختوں کو ہٹانے کا کوئی تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا تھا بلکہ یہ کارروائی اچانک کی گئی۔ اس سے قبل آٹھ ماہ پہلے فوج نے سکیورٹی کا بہانہ بنا کر شمال مغربی القدس کے دیہاتوں کو ملانے والی ایک سرنگ بند کی تھی اور تب قریب موجود درختوں کو ہٹانے کی بات کی گئی تھی۔

رام اللہ کے شمال مشرق میں سلواد کے میئر رائد حامد نے بتایا کہ مقامی کونسلوں کو 3 مارچ کو ایک فوجی حکم نامہ موصول ہوا جس میں عیون الحرامیہ، وادی البلاط اور وادی الزیتون کے علاقوں میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر درختوں کی کٹائی کا حکم دیا گیا تھا، جس کے ساتھ ایک نقشہ بھی تھا جس میں نشانہ بنائے گئے مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ رام اللہ اور نابلس کے درمیان اس مرکزی شاہراہ کے دونوں اطراف کو نشانہ بناتا ہے جسے آباد کار استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب سلواد، عین سینیا اور عطارہ کی زمینوں میں ہزاروں درختوں کی کٹائی ہے۔

انہوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ آباد کاروں کے مسلسل حملوں، فصلوں کی چوری اور زمینوں تک رسائی میں رکاوٹ کے باعث اہل علاقہ گذشتہ سیزن میں ان درختوں کا پھل حاصل کرنے سے پہلے ہی محروم ہو چکے تھے۔

رام اللہ کے مغرب میں واقع قصبے نعلین میں اس فیصلے کی زد میں جنوبی جانب علیحدگی پسند دیوار کے ساتھ واقع تقریباً 100 دونم اراضی آ رہی ہے۔

فلسطینی حکام کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات یہودی بستیوں اور بائی پاس سڑکوں کے گرد نام نہاد سکیورٹی زونز کو وسعت دینے کی صہیونی پالیسی کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی پرسات اکتوبر سنہ 2023ء کو جنگ چھڑنے کے دو ماہ بعد قابض اسرائیل نے متعدد بستیوں کے گرد ان علاقوں کی توسیع کے فوجی احکامات جاری کیے تھے۔

ہدیہ مزاحمتِ دیوار و آباد کاری (کونسل) کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قابض اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کے اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مغربی کنارے میں بستیوں کے گرد بفر زون مسلط کیے جا رہے ہیں۔

کونسل کے قانونی مشیر عاید مرار نے کہا کہ قابض فوج نے گذشتہ مہینوں کے دوران بستیوں، فوجی چھاؤنیوں، تربیتی مقامات اور بائی پاس سڑکوں کے گرد بفر زون کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن ان مقامات کے گرد درختوں کو اکھاڑنے اور زمینوں کو ہموار کرنے کا سہارا لے رہا ہے تاکہ دسیوں میٹر سے لے کر 200 میٹر تک کے رقبے کو خالی کرایا جا سکے۔

عاید مرار نے اس بات پر زور دیا کہ زیتون کے درختوں کو نشانہ بنانے کا مقصد فلسطینیوں کی اقتصادی اور معنوی موجودگی کو کمزور کرنا اور مزید زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور قابض اسرائیل کی عدالتیں ایسے فوجی فیصلوں پر نظر ثانی نہیں کرتیں۔