قابض اسرائیل کی فائرنگ اور بمباری سے 3 فلسطینی شہید، غزہ میں جارحیت کا سلسلہ برقرار

0
18

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں جاری سیز فائر کے مسلسل 146 ویں روز بھی قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بمباری سے 3 فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔

شمالی غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے ایک فلسطینی بچے کو شہید کر دیا۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شمالی علاقے میں واقع بیت لاہیا پراجیکٹ میں 13 سالہ معصوم بچہ قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوا۔

اس سے قبل جمعہ کی سہ پہر شہر کے شمال مشرقی محلے حی التفاح میں قابض اسرائیل کی گولہ باری سے ایک شہری شہید ہوا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق حی التفاح میں مسجد المحطہ کے قریب قابض فوج کے ٹینکوں سے داغے گئے گولے کی زد میں آ کر ایک فلسطینی شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔

اسی طرح جمعہ کے روز ہی شہر کے مشرقی علاقے شجاعیہ میں قابض اسرائیل کی فورسز نے ایک اور شہری کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حی الشجاعیہ میں شارع صلاح الدین پر قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے شہری پر میزائل داغا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔

گذشتہ 10 اکتوبر سے قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں فضائی و زمینی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

قابض اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں سے متعلق روزانہ کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق، اس تازہ جارحیت میں اب تک مجموعی طور پر 639 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 199 بچے، 83 خواتین اور 22 معمر افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل شہدا میں سے 47.7 فیصد حصہ صرف بچوں، خواتین اور بوڑھوں پر مشتمل ہے، جو صہیونی سفاکیت کا اصل ہدف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی تعداد 1704 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 518 بچے، 343 خواتین اور 90 معمر شہری شامل ہیں۔ زخمیوں میں ان کمزور طبقات کا تناسب 55.8 فیصد ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قابض اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا مقصد عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر نسل کشی کا نشانہ بنانا ہے۔