
مرکزاطلاعات فلسطین
تل ابیب کے مشرق میں بن گوریان ایئرپورٹ کے قریب ایہود نامی علاقے میں ایرانی میزائل گرنے کے نتیجے میں پیر کے روز دو آباد کار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
عبرانی میڈیا نے مقبوضہ فلسطین کے وسطی علاقے میں مختلف مقامات پر ایرانی میزائلوں کے گرنے سے دو اسرائیلیوں کی ہلاکت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق حالیہ حملے میں استعمال ہونے والا میزائل 24 چھوٹے بموں پر مشتمل تھا جن میں سے ہر ایک کا وزن 2 سے 5 کلوگرام تھا اور یہ بم ایک وسیع علاقے میں پھیل گئے۔
ادھر اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ کلسٹر میزائل کے یہ بم گریٹر اسرائیل کے علاقے تل ابیب کے 6 مختلف مقامات پر بکھر گئے۔ عبرانی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل کے شہر حولون میں ایرانی میزائل گرنے سے ایک اسپورٹس ہال کی چھت گر گئی۔
پیر کی علی الصبح وسطی مقبوضہ فلسطین کے شہر ریشون لتسیون پر ایک انشطاری ایرانی میزائل گرنے سے ایک اسرائیلی خاتون زخمی ہوئی۔ یہ حملہ میزائلوں کی اس نئی لہر کا حصہ ہے جو مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد پہلی بار داغی گئی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کی جگہ نامزد کیا گیا ہے جو گذشتہ دنوں امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ فضائی غارت گری میں شہید ہو گئے تھے۔
صہیونی طبی ذرائع نے ایک بیان میں بتایا کہ تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ریشون لتسیون میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک اسرائیلی خاتون درمیانی درجے کے زخموں سے چور ہوئی ہے۔ عبرانی اخبار ہارٹز نے قابض اسرائیلی افواج کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ریشون لتسیون شہر میں ہونے والا نقصان دفاعی میزائلوں کے ٹکڑوں سے نہیں بلکہ براہ راست ایک کلسٹر بم کے گرنے سے ہوا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کی جانب سے شمالی اور وسطی علاقوں کی طرف داغے گئے میزائلوں کی تازہ کھیپ کے بعد ریشون لتسیون میں ملبہ گرا۔ نشریاتی ادارے نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں شہر کی سڑکوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کو دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب عبرانی چینل 12 نے بتایا کہ ایرانی میزائلوں کی حالیہ بوچھاڑ کے بعد شمالی اور وسطی اسرائیل کے تین مختلف مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں۔ اس سے قبل قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ ایرانی میزائلوں کی آمد کے باعث حیفہ اور عکا سمیت شمالی اور وسطی علاقوں کے وسیع حصوں میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے تھے۔
تہران کی جانب سے غاصب صہیونی ریاست پر میزائلوں کی یہ پہلی بڑی لہر ہے جو ایران کی مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے باضابطہ طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ ان کے والد علی خامنہ ای چند روز قبل امریکہ اور قابض اسرائیل کے ایک بزدلانہ فضائی حملے میں جان بحق ہو گئے تھے۔
اتوار کی شام ایرانی مجلس قیادت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ارکان کی بھاری اکثریت نے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا مرشد منتخب کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ 28 فروری سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف مسلسل جارحیت اور سفاکیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور متعدد سکیورٹی حکام سمیت سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تہران ان حملوں کے جواب میں مسلسل میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے قابض اسرائیل کو نشانہ بنا رہا ہے۔


