
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکام نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے مقدس موقع پر بھی قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کا سلسلہ جاری رکھا اور نمازیوں کو وہاں پہنچنے اور نماز ادا کرنے سے جبراً روک دیا۔
قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل چودہویں روز بھی مسجد اقصیٰ کو بند رکھا گیا ہے اور ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی جنگ سے جڑے نام نہاد سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر فرزندانِ توحید کو تاحال عبادت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
القدس گورنری نے تالا بندی کے ان ظالمانہ اقدامات کے دوران مسجد اقصیٰ کے خلاف نام نہاد انتہا پسند ہیکل تنظیموں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانیے میں آنے والے خطرناک اضافے پر سخت تنبیہ کی ہے۔
گورنری نے واضح کیا کہ اس صورتحال کو محض عارضی سکیورٹی اقدامات قرار دینا خام خیالی ہوگی جیسا کہ قابض اسرائیلی حکام دعویٰ کر رہے ہیں، درحقیقت یہ اس سیاسی اور نظریاتی ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کا مقصد مسجدِ مبارک کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کو مسخ کرنا ہے۔
یروشلم کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے وسیع و عریض صحن نمازیوں سے تقریباً خالی پڑے ہیں جو ماہِ مقدس کے آخری ایام میں ایک انتہائی غیر معمولی اور اندوہناک منظر ہے، کیونکہ ان ایام میں القدس اور مقبوضہ مغربی کنارہ سے لاکھوں نمازی یہاں کا رخ کرتے تھے۔
امورِ قدس کے ماہر محقق فخری ابو دیاب کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو گارڈز، محکمہ اوقاف کے ملازمین اور مؤذن کے علاوہ تمام افراد کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اس وقت مسجد کے اندر صرف یہی عملہ موجود ہے جبکہ ملازمین کی ایک قلیل تعداد ہی وہاں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کر سکی ہے۔


