قابض صہیونی فوج نے بیت لحم میں سینکڑوں زیتون کے درختوں کو اکھاڑ ڈالا

0
14

مرکزاطلاعات فلسطین

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے مشرق میں واقع گاؤں دار صلاح اور الخاص کے قریب وادی الحمص کے علاقے میں قابض اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے زیتون کے سینکڑوں درخت جڑوں سے اکھاڑ پھینکے۔

مقامی سماجی کارکن نضال حزیبی نے بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج نے وادی الحمص کے مقام البقعہ میں تقریباً 50 دونم اراضی کو بلڈوز کر دیا اور زیتون کے ان سینکڑوں درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا جن کی عمریں 60 سال سے زائد تھیں۔ ان درختوں کی ملکیت بیت لحم اور القدس کے قصبے صور باھر کے شہریوں کے پاس تھی، جبکہ اس وحشیانہ کارروائی میں جنگلاتی درختوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج نے گذشتہ ایک ہفتہ قبل اس علاقے پر دھاوا بولا تھا اور زمینوں کو بنجر کرنے کی کارروائیوں کی تمہید کے طور پر نسل پرستانہ توسیعی دیوار میں ایک بڑا شگاف ڈالا تھا۔

اسی تناظر میں دیوار و بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے رپورٹ دی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج اور انتہا پسند آباد کاروں نے گذشتہ ماہ فروری کے دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف 1965 حملے کیے، جو فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے خلاف بڑھتی ہوئی سفاکیت کا تسلسل ہے۔

کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے 1454 حملے کیے جبکہ آباد کاروں نے 511 حملے کیے۔ ان حملوں کا مرکز الخلیل رہا جہاں 421 واقعات ہوئے، اس کے بعد نابلس میں 340، رام اللہ اور البیرہ میں 320 اور القدس میں 210 حملے ریکارڈ کیے گئے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ ان حملوں میں شہریوں پر جسمانی تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، کھیتوں کو آگ لگانا، املاک پر قبضہ، گھروں اور زرعی تنصیبات کی مسماری شامل ہے۔ ایک طرف قابض اسرائیلی افواج سکیورٹی کے بہانے فلسطینیوں کی وسیع اراضی کو بند کر دیتی ہیں تو دوسری طرف آباد کاروں کو ان زمینوں کے اندر توسیع کی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔