مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ” حماس "نے لبنانی سرزمین پر قابض اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں کے تناظر میں ایک خطرناک کشیدگی اور خطے کے ممالک کے خلاف قابض ریاست کی سفاکیت کا تسلسل قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں حماس نے کہا کہ وہ لبنانی سرزمین پر وحشیانہ صہیونی جارحیت کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اپنے جرائم اور جارحانہ پالیسیوں کے نتائج کی مکمل ذمہ دار قابض اسرائیل کو ٹھہراتی ہے۔
حماس نے لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو جائیں اور قابض اسرائیل کی ان جارحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں جو خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
جماعت کا یہ بیان لبنانی محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیلی حملوں کے تسلسل اور خطے میں تصادم کے دائرہ کار میں وسعت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
قابض فوج نے آج علی الصبح بیروت کے جنوبی ضاحیہ اور جنوبی لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں 52 افراد شہید اور 154 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، یہ حملے نومبر سنہ 2024ء سے سیز فائر معاہدے کی قابض افواج کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں۔
قابض فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان بھر میں 70 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا جن میں ہتھیاروں کے ذخائر اور میزائل لانچنگ پیڈ شامل ہیں۔
حزب اللہ آج پیر کی علی الصبح قابض اسرائیل کے خلاف محاذ میں شامل ہو گئی اور اسرائیلی بستیوں اور قصبوں پر میزائلوں کی بوچھاڑ کرنے کا اعلان کیا۔ حزب اللہ نے واضح کیا کہ ان کی کارروائی ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے خون کا انتقام اور لبنان اور اس کے عوام کا دفاع ہے، اور قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے پیش نظر ان کا یہ ردعمل جائز دفاع ہے۔
یہ حملے لبنان کے محاذ پر اکتوبر سنہ 2023ء میں شروع ہونے والی قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے تناظر میں ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں 4 ہزار سے زائد افراد شہید اور تقریبا 17 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، یہ جارحیت ستمبر سنہ 2024ء میں ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی۔
نومبر سنہ 2024ء سے سیز فائر معاہدہ نافذ العمل ہونے کے باوجود، قابض اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ قابض اسرائیل اب بھی ان پانچ لبنانی پہاڑیوں پر قابض ہے جو اس نے حالیہ جنگ کے دوران ہتھیائی تھیں، جبکہ دیگر علاقے بھی اس کے زیر قبضہ ہیں جن پر وہ سالوں سے قابض ہے۔



