ماؤں کے عالمی دن پر 39 فلسطینی مائیں قابض اسرائیلی زندانوں میں مظالم کا شکار

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، درجنوں فلسطینی مائیں قابض اسرائیل کی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ایک دردناک اور تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں ان کی ممتا کو قید و بند کی صعوبتوں اور منظم انسانیت سوز مظالم کے ساتھ آزمایا جا رہا ہے۔

کلب برائے اسیران نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ مجموعی طور پر 79 فلسطینی اسیرات میں سے 39 مائیں اب بھی قید ہیں، جو غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے ہی اسیران کے خلاف جاری سنگین خلاف ورزیوں اور سفاکیت کا نشانہ بن رہی ہیں۔

کلب برائے اسیران نے اشارہ کیا کہ اس طبقے کو ایک "منظم” ہدف بنا کر ان کے سماجی ڈھانچے کو پامال کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان اسیرات میں شہدا اور اسیران کی مائیں، اسیران اور رہا ہونے والے مجاہدین کی بیویاں، شہدا کی بہنیں، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں۔ ان قیدی ماؤں میں صحافی، معلمات، وکلا، ڈاکٹرز، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنان اور گھریلو خواتین بھی شامل ہیں جو قابض دشمن کی انتقامی کارروائیوں کا شکار ہیں۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسیر مائیں بھی دیگر تمام قیدیوں کی طرح انسانیت سوز مظالم کے ایک منظم نظام کا سامنا کر رہی ہیں، جس میں وحشیانہ تشدد، بھوکا رکھنا، علاج معالجے سے محرومی، اور تنہائی میں قید (سولٹری کنفائنمنٹ) کے ساتھ ساتھ تذلیل اور منظم جبر کی پالیسیاں شامل ہیں۔

کلب برائے اسیران نے بتایا کہ ان اسیرات کی اکثریت کو "انتظامی حراست” کے تحت قید رکھا گیا ہے یا سوشل میڈیا پر نام نہاد "اشتعال انگیزی” کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جو کہ ڈیجیٹل فضا کو جبر و استبداد کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی صہیونی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نسل کشی کی اس جنگ کے آغاز سے ہی قابض اسرائیل نے اسیران اور اسیرات کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے، جس میں خاندانوں سے ملاقات پر پابندی اور ریڈ کراس کی ٹیموں کو ان تک رسائی سے محروم کرنا بھی شامل ہے۔

کلب برائے اسیران نے یہ دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں ماؤں کو گرفتار کیا گیا، جن میں غزہ کی وہ اسیرات بھی شامل تھیں جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا، اور ضعیف العمر خواتین بھی اس گرفتاری کی لہر کا شکار ہوئیں، جو دشمن کے نشانے کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔

کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ماؤں کی گرفتاری دراصل فلسطینی وجود کے خلاف جاری ہمہ گیر جنگ کا ایک رخ ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان اسیرات کی فوری رہائی، ان کے خلاف جاری "منظم جرائم” کو روکنے، اور خواتین کی گرفتاریوں کی ان مہمات کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالے، جن کی مثال گذشتہ برسوں میں نہیں ملتی۔