مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جانشین کے طور پر ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ اپنے والد علی خامنہ ای کے جانشین مقرر ہوئے ہیں جو گذشتہ 28 فروری بروز ہفتہ تہران پر قابض اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

سنہ 1969ء میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای شہید سپریم لیڈر کے دوسرے بیٹے ہیں اور انہیں بیتِ خامنہ ای میں فیصلہ سازی کے قریبی حلقوں کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کا سیاسی شعور سنہ 1979ء کے انقلاب کے دوران بیدار ہوا، جس کے بعد وہ سنہ 1981ء میں اپنے والد کے صدرِ جمہوریہ بننے اور پھر سنہ 1989ء میں سپریم لیڈر کے منصب پر فائز ہونے تک ان کے ہمراہ رہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے اس منصب پر تقرر کا اعلان ان وسیع تر مشاورتوں اور مباحثوں کے بعد سامنے آیا ہے جو ہفتہ 28 فروری سنہ 2026ء کی صبح امریکہ اور قابض اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اس حملے کو تل ابیب نے "شیر کی گرج” اور واشنگٹن نے "رزمیہ غصہ” کا نام دیا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ "زہرا حداد عادل” شہید ہو گئی تھیں، جو ایرانی پارلیمنٹ کے سابق سپیکر غلام علی حداد عادل کی صاحبزادی تھیں۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای متعدد عوامی مواقع پر معتدل پسند دھڑے کی سرکردہ شخصیات کے ہمراہ نظر آئے، جن میں سابق صدر حسن روحانی، قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اور سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف شامل ہیں۔ سیاسی حلقوں میں مسلسل ان کا نام اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر گردش کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں مجتبیٰ خامنہ ای کے اس منصب پر تقرر کی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ویب سائٹ "ایکسیس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ نتیجہ ناقابل قبول ہے اور ان کا دعویٰ تھا کہ "وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں کیونکہ خامنہ ای کا بیٹا ایک کمزور شخصیت ہے”۔ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ "مجھے اس تقرری کا حصہ ہونا چاہیے تھا، بالکل اسی طرح جیسے وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگز کے معاملے میں ہوا”۔