مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع مخماس گاؤں کے نوجوان نصر اللہ محمد جمال ابو صيام کی شہادت کو ایک سنگین اور مکمل جرم قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ نوجوان ابو صيام بدھ کے روز گاؤں پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران ان کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔ گورنری کے مطابق یہ واقعہ منظم آباد کار گروہوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا حصہ ہے جو قابض اسرائیلی افواج کی براہ راست نگرانی اور تحفظ میں انجام دی جا رہی ہے۔
میڈیا کو جاری کیے گئے ایک اخباری بیان میں گورنری نے واضح کیا کہ یہ حملہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس میں آباد کاروں کی جانب سے برپا کی گئی خطرناک سفاکیت کی لہر کا تسلسل ہے۔ اس مہم میں شہریوں پر براہ راست فائرنگ اور لائیو ایمونیشن کا وسیع استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ استعماری بہانوں کی آڑ میں فلسطینیوں کے گھروں کو نذرِ آتش کرنا، گاڑیوں اور املاک پر حملے اور زمینوں پر قبضے جیسے جرائم شامل ہیں۔
بیان میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مخماس گاؤں کو تسلسل کے ساتھ منظم حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں مویشیوں کی چوری، قابض فوج کی چھتری تلے گاؤں کے گرد و نواح پر دھاوے اور رات کے وقت پتھراؤ کر کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا شامل ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے گاؤں کے قریب واقع خلہ السدرہ نامی بستی پر ہونے والے گذشتہ حملوں کا بھی ذکر کیا، جہاں آباد کاروں نے گھروں اور تنصیبات کو جلا کر تباہ کر دیا تھا۔ یہ سب ایک منظم پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنا اور زمین پر جبری استعماری حقائق مسلط کرنا ہے۔
گورنری نے زور دے کر کہا کہ مسلح آباد کار گروہوں کے جرائم میں یہ تیزی قابض اسرائیل کی حکومت کے ارکان، بالخصوص ایتمار بن گویر اور بزلئیل سموٹریچ کی اشتعال انگیزی ، جرائم پر اکسانے اور حمایت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی سرکاری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے جو ان حملوں کو سیاسی اور سکیورٹی تحفظ فراہم کرتی ہے تاکہ فلسطینی زمینوں کے الحاق کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور مزید رقبے پر غاصبانہ قبضہ جمایا جا سکے۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے امن کونسل کی قرارداد نمبر 2334 پر عمل درآمد کرائے۔ ساتھ ہی قابض اسرائیلی حکومت کو تمام تر توسیعی سرگرمیوں کو فوری طور پر مکمل طور پر روکنے، مسلح آباد کار گروہوں کو ختم کرنے، ان سے اسلحہ واپس لینے، ان کی مالی امداد بند کرنے اور ان کے سرپرستوں کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرے۔
گورنری نے مزید مطالبہ کیا کہ آباد کاروں کی دہشت گرد تنظیموں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جائے اور اس پورے استعماری نظام اور اس کے حامیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔



