spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

مغربی کنارے اور بیت المقدس میں 60 گھروں اور تنصیبات کو مسماری کے صہیونی نوٹس

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی افواج نے آج پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر 60 گھروں اور تجارتی تنصیبات میں تعمیراتی کام روکنے اور انہیں مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ان نوٹسز میں بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ تقوع کے 20 گھر شامل ہیں جبکہ بیت المقدس میں قابض بلدیہ کے حکام نے قصبہ عناتا میں 40 سے زائد تنصیبات کو مسمار کرنے کے نوٹس تقسیم کیے۔ اسی دوران قابض اسرائیل کے بلڈوزر نے رام اللہ کے قصبے شقبا میں ایک زرعی کمرہ بھی بلا اجازت تعمیر کا بہانہ بنا کر مسمار کر دیا۔

آج پیر کی صبح رام اللہ کے مغرب میں واقع قصبہ شقبا میں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں نے ایک زرعی کمرہ مسمار کیا جو کہ حالیہ عرصے میں اس گاؤں کے گھروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے والی مسماری کی مسلسل کارروائیوں کا حصہ ہے۔

قابض فورسز نے فوجی بلڈوزر کے ہمراہ قصبہ شقبا پر دھاوا بولا اور العطاری نامی علاقے میں شہری نزار شلش کی ملکیتی زرعی کمرے کو غیر قانونی تعمیر کے دعوے کے تحت مسمار کر دیا۔

شقبا ویلیج کونسل کے سربراہ عدنان شلش نے واضح کیا کہ قصبہ مسماری کی وسیع کارروائیوں اور مسلسل نوٹسز کی زد میں ہے جس سے مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اب ان کے گھر اور تنصیبات مسماری کے براہ راست خطرے میں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل نے سنہ 2025ء میں 25 گھر اور تنصیبات مسمار کیں جبکہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک 8 گھر مسمار کیے جا چکے ہیں اور 90 گھروں و تنصیبات کو مسماری کے نوٹس دیے گئے ہیں جن میں سے اکثر آباد ہیں کیونکہ گاؤں کی زیادہ تر اراضی ایریا "سی” (Area C) میں واقع ہے۔

عدنان شلش نے اشارہ کیا کہ تمام قانونی ذرائع اور انسانی حقوق کی پیروی مسماری کے ان اقدامات کو روکنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس سے صرف چند کارروائیوں میں تاخیر ممکن ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تین منزلہ مکان جس کی لاگت 40 لاکھ شیکل تھی اسے مسمار کر دیا گیا حالانکہ مکان کے مالکان نے کارروائی سے محض تین دن قبل ہی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

تقوع میونسپل کونسل کے ڈائریکٹر تیسیر ابو مفرح نے اطلاع دی کہ قابض اسرائیلی فورسز نے قصبے کے مشرق میں واقع "المصابیح” نامی علاقے پر دھاوا بولا اور ابو مفرح، عروج، حمید اور جبریل خاندانوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے 20 گھروں میں تعمیرات روکنے کے نوٹس دیے جن کا بہانہ وہی بغیر لائسنس تعمیرات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض فورسز نے چند روز قبل قصبے کے جنوب مغرب میں واقع "الحلقوم” کے علاقے میں بھی 20 سے زائد گھروں میں تعمیرات روکنے کے نوٹس دیے تھے۔

بیت المقدس میں مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ قابض حکام نے آج بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبہ عناتا میں 40 سے زائد تنصیبات کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ نوٹس غیر قانونی تعمیرات کا بہانہ بنا کر دیے گئے ہیں حالانکہ یہ علاقہ فلسطینی بلدیہ عناتا کی حدود میں آتا ہے نہ کہ قابض اسرائیل کی بلدیہ کی حدود میں۔

دیوار و آباد کاری مزاحمتی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق قابض حکام نے گذشتہ سال کے دوران مسماری کی 538 کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 1400 تنصیبات تباہ ہوئیں۔ ان میں 304 آباد گھر، 74 غیر آباد گھر، 270 ذرائع معاش اور 490 زرعی تنصیبات شامل تھیں۔

مسماری کی یہ سفاکانہ کارروائیاں بنیادی طور پر خلیل، مقبوضہ بیت المقدس، رام اللہ، طوباس اور نابلس کی گورنریوں میں مرکوز رہیں۔

spot_imgspot_img