
مرکزاطلاعات فلسطین
اقوام متحدہ نے قابض اسرائیل کی حکام سے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایک سال کے دوران 36 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی بے دخلی کے تناظر میں "نسلی تطہیر” کے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔
منگل کے روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2025ء کے 12 مہینوں کے دوران ہونے والی یہ نقل مکانی بے مثال پیمانے پر "جبری بے دخلی” کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ قابض اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جبری منتقلی اور مستقل بے دخلی کی ایک مربوط پالیسی کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں آباد کاروں کے ہاتھوں ہونے والے 1732 حملوں کی دستاویز بندی کی گئی ہے جن میں فلسطینیوں کو زخمی کیا گیا یا ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ گذشتہ دور میں یہ تعداد 1400 تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں مسلسل ہراساں کرنا اور گھروں اور زرعی زمینوں کی تباہی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آباد کاروں کی سفاکیت ایک مربوط اور سٹریٹجک نوعیت کی ہے جو وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے، جبکہ اس پر احتساب کا عمل تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کی رہنمائی یا انہیں ممکن بنانے میں قابض اسرائیل کی حکام کا "بنیادی کردار” ہے۔ رپورٹ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سزا سے مسلسل استثنیٰ ان خلاف ورزیوں کے جاری رہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہا ہے۔
رپورٹ میں گذشتہ اکتوبر کے دوران زیتون کی کٹائی کے سیزن میں حملوں میں نمایاں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں 42 حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 131 فلسطینی زخمی ہوئے، جو کہ سنہ 2006ء کے بعد سے ایک ماہ کے دوران زخمیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلح آباد کاروں اور فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد "فوجی آباد کاروں” کی جانب سے روزانہ کے حملوں کی رفتار، جنہیں باقاعدہ طور پر مسلح اور تربیت دی گئی ہے، اور کسانوں کی اپنی زمینوں تک رسائی پر پابندیوں نے سنہ 2025ء کے سیزن کو دہائیوں کا بدترین سیزن بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے دخلی کے بعض واقعات صنفی بنیاد پر تشدد سے جڑے ہوئے تھے، جبکہ دیگر حملوں کے نتیجے میں خاندان بکھر کر رہ گئے کیونکہ خواتین اور بچوں کو ہجرت کرنی پڑی جبکہ مرد اپنی زمینوں اور املاک کی حفاظت کے لیے پیچھے رہ گئے۔
رپورٹ میں مشرقی القدس کے شمال مشرق میں بدو بستیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے بے دخلی کے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے جو کہ بستیوں کی توسیع کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنیوا کے چوتھے کنونشن کے تحت محفوظ افراد کی جبری منتقلی ایک جنگی جرم ہے اور بعض صورتوں میں یہ انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے جس پر انفرادی طور پر مجرمانہ احتساب لازم ہے۔
یہ صورتحال غزہ کی پٹی پر جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور قابض اسرائیل کی بنجمن نیتن یاھو کی حکومت، جسے تاریخ کی سخت گیر ترین حکومت قرار دیا جاتا ہے، کی جانب سے بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل کی حکام نے مشرقی القدس میں 36,973 بستیوں کے یونٹس اور مغربی کنارے کے بقیہ حصوں میں تقریباً 27,200 یونٹس کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری دی یا انہیں آگے بڑھایا ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران 84 نئی بستیوں کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جنہیں بے مثال اعداد و شمار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مغربی کنارے کے "ایریا بی” میں بھی آباد کاری کی سرگرمیوں کی توسیع کا ذکر کیا گیا ہے، جو اوسلو معاہدوں کے تحت نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

