مغربی کنارے میں قابض صہیونی فوج کا چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کا وسیع سلسلہ جاری

0
0

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی افواج نے آج اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں اور گرفتاریوں کی مہم چلائی، جس کے دوران گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی اور تلاشی لی گئی، جبکہ متعدد فلسطینیوں کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھ کر ان سے وحشیانہ میدانی تحقیقات کی گئیں۔

کئی علاقوں میں حملہ آور فوج کا مقابلہ کرنے کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے اور آنسو گیس کی شیلنگ سے دم گھٹنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

سلفیت گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے شہر کے شمال میں واقع مردا گاؤں پر دھاوا بولا، متعدد گھروں کی تلاشی لی اور ان کے سامان کی توڑ پھوڑ کی، جبکہ کئی رہائشیوں سے میدانی تحقیقات کی گئیں۔

مقبوضہ القدس میں اسرائیلی افواج نے قدیم شہر کے محلوں اور مسجد اقصیٰ کے گرد و نواح میں چھاپہ مار مہم چلائی، اور باب حطہ و باب العمود کے علاقوں سے دو نوجوانوں کو میدانی تلاشی کے بعد گرفتار کر لیا۔

اسی طرح القدس کے شمال مشرق میں واقع قصبوں عناتا اور حزما میں بھی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں، جہاں گھروں کی وسیع پیمانے پر تلاشی لی گئی اور نوجوانوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی گئی۔

خلیل گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے شہر کے اندر کئی محلوں بشمول جبل الرحمہ اور وادی الہریہ پر دھاوا بولا، جبکہ جنوب میں یطا اور دورا کے قصبوں میں چھاپے مار کر متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا اور کئی افراد کو قابض انٹیلی جنس کے سامنے پیش ہونے کے نوٹسز بھی تھمائے گئے۔

ان گرفتاریوں میں مختلف قصبوں اور دیہاتوں کے متعدد فلسطینی شامل ہیں جن کے گھروں پر چھاپے مار کر تلاشی لی گئی تھی۔

رام اللہ اور البیرہ میں آج صبح سویرے بیرزیت قصبے پر قابض فوج کے حملے کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں ایک نوجوان ربڑ کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جبکہ دير ابو مشعل، عابود اور کفر عین کے دیہاتوں میں فوجی نقل و حرکت اور داخلی راستوں پر عارضی رکاوٹیں کھڑی کر کے چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ اور البیرہ گورنری میں عین سینیا اور یبرود کے داخلی راستوں پر دو فوجی چوکیاں بھی قائم کیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ان چوکیوں پر موجود قابض فوجیوں نے گاڑیوں کی تلاشی لی اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں کھڑی کیں، جس سے ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہوا۔

قابض اسرائیل نے مغربی کنارے میں قصبوں اور دیہاتوں کے داخلی راستوں پر تقریباً 1000 فوجی چوکیاں اور گیٹ قائم کر رکھے ہیں، جو مغربی کنارے کا محاصرہ سخت کرنے، اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے، اسے الگ تھلگ علاقوں میں تبدیل کرنے، شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے اور ان پر اجتماعی سزائیں مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیت لحم میں خصوصی دستوں نے دہیشہ کیمپ پر دھاوا بولا، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور گھروں کی جانب آنسو گیس اور صوتی بموں کی شدید شیلنگ کی گئی۔ کلب برائے اسیران کے مطابق اس دوران چھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کے بعد مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے نابلس، جنین، طولکرم، اریحا اور طوباس کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں، دیہاتوں اور قصبوں پر حملوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا، جس میں بے گھر افراد کی حراست اور گھروں کی وسیع پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔