
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج نے آج جمعہ کی فجر مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی کارروائیوں اور انتقامی اقدامات میں مزید شدت پیدا کر دی ہے جبکہ دوسری جانب متعدد دیہات میں شرپسند صہیونی آبادکاروں نے فلسطینی شہریوں کی املاک کو نشانہ بناتے ہوئے وحشیانہ حملے کیے۔
رام اللہ کے شمال اور نابلس کے جنوب میں قابض فوج نے متعدد قصبوں اور دیہات کے داخلی راستے بند کر دیے۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج کے بلڈوزروں نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے سنجل کے مرکزی داخلی راستے کو مٹی کے تودے ڈال کر مکمل طور پر بند کر دیا ہے جبکہ نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں لبن الشرقیہ کے میدانی علاقوں کے ذیلی راستوں اور قبلان قصبے کو الساویہ اور یتما کے دیہات سے ملانے والی سڑک کو بھی بند کر دیا گیا۔
ذرائع نے اس سنگین صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان قصبوں اور دیہات کے مرکزی داخلی راستے پہلے ہی آہنی گیٹ لگا کر بند کیے جا چکے ہیں جبکہ اب قابض انتظامیہ ان ذیلی اور کچے راستوں کو بھی بند کر رہی ہے جنہیں فلسطینی شہری اپنی نقل و حمل اور ضروریاتِ زندگی کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
بیت لحم گورنری میں غاصب آبادکاروں نے شہر کے مشرق میں واقع گاؤں الرشایدہ میں مرغیوں کے ایک فارم کو آگ لگا دی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے جان بوجھ کر فارم کو نذرِ آتش کیا جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا، یہ فارم مقامی شہری احمد محمد رشایدہ کی ملکیت تھا۔
یہ بزدلانہ کارروائی الرشایدہ گاؤں میں گذشتہ کچھ عرصے سے جاری ان حملوں کا تسلسل ہے جو آبادکاروں اور قابض فوج کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے جا رہے ہیں، جن میں چرواہوں پر تشدد، انہیں چراگاہوں تک پہنچنے سے روکنا اور گاؤں کے مرکزی داخلی راستے کی جبری بندش شامل ہے۔
نابلس میں قابض فوج نے شہر کے گردونواح میں سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے جہاں تل کے مقام پر المربعہ گیٹ اور شہر کے مغرب میں واقع دیر شرف چوک کو بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہوا اور ہزاروں شہری رات بھر فوجی چوکیوں کے قریب گھنٹوں محصور رہے۔
اس کے علاوہ نابلس کے جنوب میں بورین گیٹ اور حوارہ کے داخلی راستوں کو بھی بند کر دیا گیا جبکہ عورتا فوجی چوکی کے ذریعے شہر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قابض فوج نے نابلس کے مشرق میں واقع کئی دیہات کے داخلی راستے بھی بند کر دیے جس کے نتیجے میں یہ بستیاں اپنے گردونواح اور ایک دوسرے سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئی ہیں۔
بیت فوریک چوکی پر گاڑیوں کی کڑی تلاشی اور شہریوں کے شناختی کارڈز کی تفصیلی جانچ پڑتال کا عمل جاری رہا جس کی وجہ سے ٹریفک کا بدترین اژدھام دیکھنے میں آیا اور شہریوں کو طویل دورانیے تک محبوس رکھا گیا۔
قابض فوج نے نابلس شہر اور اس کے مشرق میں واقع قدیم عسکر کیمپ سے تین فلسطینیوں کو اغوا کر لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض فوج نے شہر کے مشرقی علاقے پر دھاوا بولا اور حی الضاحیہ میں سابق اسیر نضال ابو رمیلہ کے گھر کی تلاشی اور توڑ پھوڑ کے بعد انہیں اغوا کر لیا اور ان کی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض فوج نے قدیم عسکر کیمپ میں بھی شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی جس کے بعد دو نوجوانوں عمار فرج ابو ستہ اور کامل شحادہ ابو خیط کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
طوباس گورنری میں قابض فوج نے آج فجر کے وقت دو بھائیوں کریم اور باسل جہاد مساعید کو ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔ طوباس میں کلب برائے اسیران کے ڈائریکٹر کمال بنی عودہ کے مطابق یہ گرفتاری ان کے بھائی محمد پر ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے عمل میں لائی گئی ہے جو کہ ایک غیر انسانی فعل ہے۔
شمالی وادی اردن میں شرپسند آبادکاروں نے آج فجر کے وقت حمصہ الفوقا کے مقام پر دھاوا بولا اور وہاں موجود نہتے فلسطینیوں اور غیر ملکی انسانی حقوق کے کارکنوں پر تشدد کیا۔ طوباس گورنری میں امورِ اغوار کے ذمہ دار معتز بشارات نے بتایا کہ آبادکاروں کے ایک جتھے نے اس بستی پر حملہ کر کے شہری عبدالعزیز ابو الکباش کی ملکیت تقریباً 300 مویشی چوری کر لیے۔
شمالی وادی اردن کے علاقوں میں آبادکاروں کی جانب سے ان سفاکانہ حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملے، انہیں ہراساں کرنا اور چرواہوں کو چراگاہوں میں داخل ہونے سے روک کر ان کے معاشی قتل کی سازش کرنا شامل ہے۔


