مغربی کنارے کے الحاق کی امریکی مخالفت، سرحدوں میں توسیع کے اسرائیلی مطالبات نظر انداز

0
0

مرکزاطلاعات فلسطین

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کے حوالے سے قابض اسرائیل کی حکومت کے رجحانات کی حمایت نہیں کرتے، یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی توسیع کے مطالبات پر مبنی بیانات میں شدت آچکی ہے۔

یدیعوت احرونوت نے امریکی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قابض اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کے بیانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت نے تصدیق کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی حمایت نہیں کرتے، تاہم اس جواب میں ان دیگر بیانات کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا جن میں غزہ، لبنان اور شام کے علاقوں تک سرحدیں پھیلانے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ بزلئیل سموٹریچ نے معوز تسور نامی بستی کے افتتاح کے دوران ایک ایسی سیاسی شق کا مطالبہ کیا تھا جس کا مقصد اسرائیل کی سرحدوں کو وسعت دینا ہے، تاکہ ان میں غزہ کی پٹی، جنوبی لبنان کا دریائے لیطانی اور شام کے علاقوں بشمول جبل الشیخ اور بفر زون کو شامل کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ایک ویڈیو پیغام میں مغربی کنارے میں آباد کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سکیورٹی کو مضبوط بناتی ہے اور زمین کے ساتھ تعلق کو راسخ کرتی ہے۔

امریکی موقف واشنگٹن اور اسرائیلی حکومت کے بعض ستونوں کے درمیان فلسطینی زمین کے مستقبل کے حوالے سے واضح اختلاف کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ علاقائی استحکام پر کسی بھی یکطرفہ اقدام کے نتائج کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔