
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں مجرم قابض صہیونی فوج اور استعماری آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے مظالم کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے کہ یہ جرائم اب انتہائی خطرناک اور غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے ان مظالم کو روکنے اور ہر ممکن طریقے سے مزاحمت کرنے کے لیے متحدہ جدوجہد کی اپیل کی ہے۔
حسام بدران نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی طویل عرصے تک تالہ بندی اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی مقدس مسجد سے محروم کرنا، القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے (تہویدی حقیقت مسلط کرنے) اور اس پر مکمل قبضے کی صہیونی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ قبلہ اول میں حاضری اور پہرے داری (رباط) کے عمل کو تیز کیا جائے اور اس کے تحفظ و دفاع کے لیے کسی بھی تاخیر کے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن نے مزید کہا کہ قابض صہیونی فوج کی جانب سے مغربی کنارے کے دیہات، قصبوں اور شہروں میں جاری مسلسل چھاپے مارنے اور حملوں کا اصل مقصد فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور وطن سے بے دخل کرنا اور جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب تمام تر وسائل کے ذریعے ان جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنا اور قابض دشمن کو اس کے جرائم جاری رکھنے سے روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ قابض اسرائیلی فوج کی یہ خلاف ورزیاں آباد کار ملیشیاؤں کے بڑھتے ہوئے مظالم کے ساتھ ساتھ جاری ہیں، جو مغربی کنارے اور القدس کے متعدد علاقوں میں غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ حسام بدران نے ان بہادر نوجوانوں کی شجاعت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جو دشمن کی اس فرعونیت اور غنڈہ گردی کے خلاف سینہ سپر ہیں۔


