
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں میں پناہ گزین مراکز اور بے گھر فلسطینیوں کے اجتماعات کو آرٹلری بمباری، ڈرون طیاروں اور فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
آج علی الصبح سے ہی جنگ بندی کے نفاذ کے 185 ویں دن نئی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جہاں قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں رہائشی عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کارروائیاں کیں، جن میں خان یونس کے مشرقی علاقے اور غزہ شہر کے شمالی حصوں میں واقع شہریوں کے گھر شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں اور غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیا کیمپ کے مشرقی حصوں کی جانب شدید گولہ باری کی، جبکہ قابض دشمن کی عسکری کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
میدانی جارحیت کے متوازی، انسانی صورتحال بھی بدتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ قابض اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ اشیاء کی نقل و حرکت کو کنٹرول کر کے ’بھوک کی انجینئرنگ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس انسانی پروٹوکول کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے تحت روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ لازمی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ 11 اکتوبر سنہ 2024ء کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد 749 تک پہنچ چکی ہے اور 2082 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ملبے تلے سے 759 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس سفاکیت اور جارحیت کے مجموعی اعداد و شمار اب تک تقریباً 72,328 شہداء اور 171,184 زخمیوں تک جا پہنچے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ اور نسل کشی کی بھاری انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔

