یوروفیژن کے پروموشنل ٹور کو حال ہی میں بائیکاٹ کے دباؤ کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ منتظمین نے “لازمی مشکلات” اور “سیکیورٹی خدشات” کا حوالہ دیا، لیکن سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ عوامی اور بین الاقوامی دباؤ نے اس فیصلے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
بائیکاٹ مہمات خاص طور پر انسانی ہمدردی اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے جذبے سے چلائی گئیں، جو اس وقت جاری مظالم اور نسل کشی کے خطرناک حالات کے خلاف ہیں۔ مختلف یورپی ممالک میں فعال کارکنان، فنکاروں اور سول سوسائٹی نے یوروفیژن کے مختلف ایونٹس پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے واضح موقف اختیار کریں۔
اگرچہ یوروفیژن کا مرکزی مقابلہ اب بھی مقررہ وقت پر ہونا ہے، ٹور کی منسوخی بائیکاٹ کے حامیوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ عوامی دباؤ اور یکجہتی سے بڑے ثقافتی پروگراموں پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ بائیکاٹ کے سرگرم کارکن اسے صرف ایک شروعاتی قدم قرار دیتے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی مہم جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ثقافتی ایونٹس، جو عموماً فن اور موسیقی کی خوشیوں کے لیے ہوتے ہیں، اب انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے مباحث میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔



