
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے یوم الارض کی 50 ویں برسی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہماری قوم اپنی زمین میں جڑیں گاڑے ہوئے ہے اور اپنے تمام حقوق کے حصول اور آزادی و واپسی کی امنگوں کی تکمیل تک ہر ممکن طریقے سے اس کا دفاع کرتے ہوئے ثابت قدم رہے گی۔
حماس نے آج پیر کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ لازوال یوم الارض کی پچاسویں برسی اس سال ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب غزہ کی پٹی میں ہماری قوم کو دو سال سے زائد عرصے سے جاری نسل کشی، فاقہ کشی، نسلی تطہیر اور جبری جلاوطنی کی کوششوں کا سامنا ہے، جس کے خطرناک اثرات زندگی کے تمام انسانی پہلوؤں پر محیط ہیں۔ یہ برسی ایک ایسے ماحول میں منائی جا رہی ہے جہاں قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں بستیوں کی تعمیر، الحاق، یہودیانے اور بے دخلی کے جرائم میں تیزی لا رہی ہے، مسجد اقصیٰ مبارک کی مسلسل ناکہ بندی جاری ہے اور اسیران کے خلاف سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ جارحیت اور مجرمانہ اقدامات اس صہیونی دشمن کی اصل فطرت کو بے نقاب کرتے ہیں جو تمام عالمی اصولوں، معاہدوں اور آسمانی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اب خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہماری قوم ہر سال 30 مارچ کو اس لازوال یاد کو اس لیے تازہ کرتی ہے تاکہ سنہ 1976ء میں ہماری مقبوضہ سرزمین المثلث، الجلیل اور النقب کے عوام کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کے خلاف اور قابض اسرائیل کی بے دخلی و ملک بدری کی پالیسی کے خلاف بھڑکنے والی چنگاری کو یاد رکھا جا سکے۔ یہ یادگار اب اتحاد، جدوجہد اور مزاحمت کو فروغ دینے کا ایک قومی عنوان بن چکی ہے اور ایک ایسا سنگ میل ہے جس سے آنے والی نسلیں قربانی، چیلنج اور زمین سے وابستگی کا جذبہ حاصل کرتی ہیں تاکہ قابض اسرائیل کو شکست دے کر اپنی سرزمین سے اس کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔
یوم الارض کی پچاسویں برسی پر حماس نے اپنے جلیل القدر شہداء کی ارواح پر فاتحہ خوانی کی اور زخمیوں کی جلد شفا یابی کی دعا کی۔ حماس نے اپنے آزاد منش اسیران کو وفاداری کا سلام پیش کیا اور غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، القدس، مقبوضہ اندرون اور پناہ گزین کیمپوں و شتات میں موجود اپنی عظیم اور صابر و مرابط قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔ تحریک نے وطن کی سرحدوں پر پہرہ دینے والے اور اپنی زمین پر ڈٹ جانے والے تمام مرابطین پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے ان سے عہد کیا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنی زمین اور مقدسات کے دفاع اور ان کی آزادی و واپسی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔
جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری قوم، زمین اور اسلامی و مسیحی مقدسات کے خلاف دشمن کے جرائم وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی اسے کوئی حق یا جواز فراہم کریں گے، اور نہ ہی یہ مظالم ہماری قوم کے ارادوں کو توڑ سکیں گے اور نہ ہی اسے جدوجہد، استقامت اور اپنے حقوق و اصولوں پر قائم رہنے کے راستے سے ہٹا سکیں گے۔
حماس نے واضح کیا کہ ہماری قوم کو اپنی زمین پر رہنے، وہاں آزادی و خودمختاری کے ساتھ جینے اور ہر ذریعے سے اس کا دفاع کرنے کا حق دینا کسی کا احسان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جائز حق ہے جسے بین الاقوامی چارٹرز نے دنیا کے اس سب سے خطرناک، مجرمانہ اور آباد کارانہ قبضے سے نجات پانے کے لیے تسلیم کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیل کے منصوبے، زمین چوری کرنے کے جرائم، بستیوں کی تعمیر کی یلغار اور ہماری قوم کو بے دخل کرنے کی کوششیں تاریخ اور حقیقت کو تبدیل کرنے اور فلسطینی سرزمین کے نقوش مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
حماس نے اس عزم کا دوبارہ اظہار کیا کہ ہم فلسطین کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے اور ہماری قوم اپنے تمام حقوق چھین لینے اور آزادی و واپسی کے مقاصد حاصل کرنے تک ہر ممکن طریقے سے اس کا دفاع کرتی رہے گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شہرِ القدس اور مسجد اقصیٰ مبارک ہماری مبارک تاریخی سرزمین کا تاج تھے اور رہیں گے، اس کے کسی بھی حصے پر قابض اسرائیل کی کوئی حاکمیت یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی اور ہم ہر قربانی دے کر ان کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ ان پناہ گزینوں کی واپسی جنہیں صہیونی قبضے کے باعث جبری طور پر جلاوطن کیا گیا تھا، ایک انفرادی اور اجتماعی حق اور فریضہ ہے جسے چھوڑنے یا ضائع کرنے کا کسی کو حق نہیں، ہم آباد کاری اور متبادل وطن کے تمام منصوبوں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
حماس نے اپنی عرب اور اسلامی امت سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر صہیونی ریاست کے ان استعماری منصوبوں اور اہداف کو ناکام بنائیں جو فلسطین کی حدود سے تجاوز کر کے ہماری امت کی سلامتی، استحکام اور وحدت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
آخر میں حماس نے دنیا بھر کے آزاد انسانوں سے اپیل کی کہ وہ ہماری قوم کے منصفانہ کاز اور جائز جدوجہد کی ہر ممکن حمایت اور یکجہتی کریں، اس نسل پرست اور فاشسٹ صہیونی ریاست کا بائیکاٹ کر کے اسے تنہا کریں، اس کی دہشت گردی کو جرم قرار دلائیں اور اس کے لیڈروں کا ٹرائل کیا جائے تاکہ قبضے کا خاتمہ ہو، ہماری قوم کو آزادی، خودمختاری اور حقِ خودارادیت حاصل ہو اور القدس کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔

