
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض صہیونی دشمن کی جانب سے نام نہاد ہنگامی حالت کے بہانے عائد کردہ 40 روزہ طویل بندش کے خاتمے کے بعد آج پہلے جمعہ کے موقع پر تقریباً ایک لاکھ نمازیوں نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کی۔
قابض اسرائیل کی جانب سے القدس کی قدیم بستی کے داخلی راستوں اور مسجد کے دروازوں پر عائد کردہ سخت پابندیوں اور تلاشی کے نام نہاد اقدامات کے باوجود القدس اور مقبوضہ اندرونِ فلسطین سے ہزاروں فلسطینیوں نے نمازِ فجر سے ہی مسجد اقصیٰ کی جانب رخ کرنا شروع کر دیا تھا۔
نمازیوں کی آمد کے دوران قابض دشمن کی فوج نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا تاکہ شہریوں کو ہراساں کیا جا سکے اور ان کی آمد میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، جبکہ نماز کے بعد واپسی کے وقت باب الاسباط کے قریب قابض فورسز نے ایک نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے نام نہاد ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر لگاتار 40 دنوں تک مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کر رکھا تھا اور اس دوران القدس کے رہائشیوں کو بھی وہاں نماز ادا کرنے یا مسجد کے اندر موجودگی سے سختی سے روک دیا گیا تھا۔


