spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

فروری میں صہیونی دہشت گردی کی ہولناک لہر: دیوار و آباد مخالف مزاحمتی کمیشن کی رپورٹ

مرکزاطلاعات فلسطین فلسطین میں قابض اسرائیل کی قائم کردہ نسلی...

اہل غزہ حج کی سعادت سے محروم: بقیہ کوٹہ القدس اور شمالی اضلاع کے لیے مختص

مرکزاطلاعات فلسطین فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے منگل...

بیت لحم کے قصبے نحالین پر اسرائیلی دھاوا، دم گھٹنے سے درجنوں فلسطینی متاثر

مرکزاطلاعات فلسطین مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے مغرب...

حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون مار گرانے اور دو میرکافا ٹینکوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

مرکزاطلاعات فلسطین حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں...

مقبوضہ مغربی کنارے میں رمضان کے دوران فلسطینیوں کو کچلنے کے لیے قابض اسرائیل کی ڈرونز کے ذریعے تیاریاں

مرکزاطلاعات فلسطین

ایک عبرانی چینل نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آنسو گیس کے گولے گرانے کے لیے ڈرونز پر نصب کیے جانے والے جدید سسٹمز خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ سکیورٹی تیاریاں اس ہفتے سے شروع ہونے والے ماہِ رمضان کے دوران فلسطینی شہریوں کو دبانے اور ان پر تشدد کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کی قیادت نام نہاد "نیشنل گارڈز” کریں گے، یہ وہ سکیورٹی فورس ہے جسے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے تشکیل دیا ہے اور یہ فورس فلسطینی شہریوں کو کچلنے کے لیے ایک ملیشیا کے طور پر کام کرتی ہے۔

نجی عبرانی چینل 12 نے گذشتہ روز ہفتے کو اطلاع دی کہ اسرائیلی نیشنل گارڈز کی رمضان کے لیے تیاریوں کے فریم ورک کے تحت، پولیس (قابض افواج) کی ٹینڈر کمیٹی نے ڈرونز سے آنسو گیس کے کیپسول گرانے والے تین سسٹمز کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت تقریباً 49 ہزار ڈالر ہے۔

چینل کے مطابق یہ "سرپرائز ایگ” (بیضہ المفاجاہ) نامی تین سسٹمز ہیں جو "میٹرس” ماڈل کے ڈرونز پر نصب کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد فضا سے آنسو گیس کے گولے گرا کر مظاہرین کو منتشر کرنا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس نئے سودے کی منظوری سے قبل ہی اسرائیلی پولیس کے پاس اس قسم کے 19 فعال سسٹمز پہلے سے موجود ہیں۔

چینل نے مزید کہا کہ خریداری کی دستاویزات میں اس ضرورت کو "انتہائی ناگزیر” قرار دیا گیا ہے اور اسے ماہِ رمضان کے دوران متوقع واقعات کے لیے آپریشنل تیاریوں کا حصہ بتایا گیا ہے۔

گذشتہ منگل کو اسی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قابض اسرائیلی فوج نے رمضان المبارک کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں کمانڈو بریگیڈ سمیت اپنی افواج کو مزید تقویت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض فوج نے مغربی کنارے میں اپنی پہلے سے تعینات 22 بٹالینز کے علاوہ مزید اضافی یونٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وضاحت کی گئی کہ کمانڈو بریگیڈ کے ساتھ ساتھ کئی اضافی کمپنیاں بھی تعینات کی جائیں گی جو مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں ہزاروں نمازیوں کے داخلے کے پیش نظر فوجی چوکیوں پر معاونت کریں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قابض فوج نے اپنے وزیر یسرائیل کاٹز کو سفارش کی ہے کہ ہر جمعہ کو 10 ہزار نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے، ساتھ ہی فوج نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ 55 سال سے زائد عمر کے مردوں اور 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کے داخلے کی منظوری دی جائے۔

گذشتہ جمعہ کو مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رمضان کے دوران نمازیوں کی رسائی محدود کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ انتہا پسند حکومت "مسجد اقصیٰ کے خلاف ایک جارحانہ منصوبے پر عمل پیرا ہے”۔

واضح رہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں مقبوضہ مغربی کنارے سے لاکھوں فلسطینی نماز کی ادائیگی کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کا رخ کرتے ہیں جس سے شہر کی تجارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی ہے اور مسجد اقصیٰ نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔

تاہم 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی قابض اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے رہائشیوں پر مقبوضہ بیت المقدس کی طرف جانے والی فوجی چوکیوں پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

spot_imgspot_img