مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکام نے ماہِ صیام کی آمد سے قبل اشتعال انگیزی میں اضافہ کرتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو مسجد اقصٰی سے بے دخل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے نامہ نگار محمد الصادق اور نوجوان قصی ابو ترکی کو چھ ماہ کے لیے مسجد اقصٰی سے بے دخل کرنے کا حکم سنادیا ہے۔
اسی تسلسل میں قابض اسرائیلی حکام نے سابق اسیر اور مسجد اقصٰی کے گارڈ فادی علیان کو بھی چھ ماہ کے لیے مسجد سے بے دخلی کا نوٹس تھما دیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری کی جانب سے جاری کردہ گذشتہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رمضان المبارک سے قبل بے دخلی کے ان احکامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نمازیوں کی تعداد کو کم کرنا اور حرم قدسی کے اندر نیا جبری نقشہ مسلط کرنا ہے۔
گورنری نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ جنوری کے آغاز سے اب تک بے دخلی کے تقریبا 150 کیسز دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ رمضان سے قبل بے دخل کیے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 200 سے 300 کے درمیان ہے، تاہم درست تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ بعض احکامات تحریری طور پر دینے کے بجائے فون کالز یا الیکٹرانک ایپلی کیشنز کے ذریعے بھیجے گئے ہیں۔