مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی بلدیہ کی حدود کو نام نہاد گرین لائن سے آگے تک وسعت دینا ایک انتہائی خطرناک اقدام اور ایسی جارحانہ مثال ہے جو سنہ 1967 کے نکسہ کے بعد سے اب تک دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ قابض اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس پر مکمل الحاق اور جبری خودمختاری مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام عناتا قصبہ میں 40 گھروں کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کرنے کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں ایسے نوٹس دیے جا رہے ہیں۔ یہ اس منظم پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد بیت المقدس کے گرد و نواح سے ہمارے عوام کو بے دخل کرنا اور شہر کو اس کے اصل باشندوں سے خالی کرانا ہے۔ یہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت کے زیر قیادت اس نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے جس میں مقامی آبادی کو ہٹا کر غاصبوں کو بسایا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات بیت المقدس میں فلسطینیوں کے وجود کے خلاف جاری ایک کھلی جنگ ہے اور طاقت کے زور پر شہر کی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے قومی، عرب، اسلامی اور بین الاقوامی موقف کی متقاضی ہے جو اس وجودی خطرے کا مقابلہ کر سکے جو اس مقدس شہر اور اس کے گرد و نواح کو درپیش ہے۔
حماس نے ان جرائم پر خاموشی کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل عالمی بے بسی اور عدم توجہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خطرناک ترین منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی اور زمینوں کے الحاق کے عمل میں غیر معمولی تیزی آئے گی۔
حماس نے بیت المقدس، مغربی کنارے اور اندرون فلسطین کے غیور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصٰی اور شہر میں اپنی موجودگی اور رباط (پہرہ دینے) میں اضافہ کریں، مسماری کے خطرے سے دوچار خاندانوں کی استقامت کو مضبوط بنائیں اور ان جارحانہ پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔