spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 شہید اور 11 زخمی غزہ کے ہسپتالوں میں منتقل: وزارت صحت

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی وزارت صحت نے آج پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 شہدا اور 11 زخمیوں کو غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی پر 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 72,063 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171,726 تک پہنچ چکی ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہے جہاں ایمبولینس اور محکمہ شہری دفاع کا عملہ تاحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

وزارت صحت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ رواں ماہ 11 اکتوبر سے سیز فائر کے فیصلے پر عمل درآمد کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہدا کی کل تعداد 603 ہو گئی ہے جبکہ 1,618 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ملبے تلے دبے لاپتہ افراد میں سے 726 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکہ اور یورپ کی حمایت سے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا ارتکاب کیا جس میں قتل و غارت، بھوک پیاس، تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ اس دوران عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے جنگ بندی کے احکامات کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد 11 ہزار سے متجاوز ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور قحط کی وجہ سے بہت سے لوگ لقمہ اجل بن گئے جن میں اکثریت بچوں کی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی نے غزہ کی پٹی کے اکثر شہروں اور علاقوں کو نقشے سے مٹا دیا ہے۔

spot_imgspot_img