
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی افواج نے شام کے جنوبی علاقے قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے میں واقع گاؤں عین زیوان میں دراندازی کی اور متعدد گھروں پر دھاوا بول دیا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق قابض اسرائیل کی ایک فورس نے عین زیوان گاؤں پر حملہ کر کے کئی گھروں میں چھاپہ مار کارروائی کی، اس کے علاوہ گاؤں کے اطراف میں ایک چوکی قائم کر دی جہاں راہگیروں کی تلاشی لی گئی اور آمد و رفت میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
ایجنسی نے مزید بتایا کہ ان قابض افواج نے قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے کے ایک اور گاؤں صیدا الجولان پر بھی دھاوا بولا اور ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گرفتاری کب عمل میں آئی۔
شام کی خود مختاری کے خلاف قابض اسرائیل کی یہ خلاف ورزیاں حالیہ دنوں میں معمول بن چکی ہیں، باوجود اس کے کہ دمشق نے بارہا سنہ 1974ء میں دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والے افواج کی علیحدگی کے معاہدے کی پابندی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب تل ابیب نے 8 دسمبر سنہ 2024ء کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
قابض اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں میں زمینی دراندازی، توپ خانے سے گولہ باری (خصوصاً قنیطره اور درعا کے جنوبی دیہی علاقوں میں)، شہریوں کی گرفتاریاں، راہگیروں کی تلاشی اور ان سے تفتیش کے لیے چوکیاں قائم کرنا اور فصلوں کی تباہی شامل ہے۔
یہ اسرائیلی خلاف ورزیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 6 جنوری کو امریکہ کی نگرانی میں شام اور قابض اسرائیل کے درمیان معلومات کے تبادلے، فوجی کشیدگی میں کمی، سفارتی روابط اور تجارتی مواقع کے لیے ایک رابطہ میکانزم کی تشکیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
شامی شہریوں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی مسلسل مداخلت ان کے استحکام کی بحالی کی صلاحیتوں کو متاثر کر رہی ہے اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری راغب کرنے کی حکومتی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔



