مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے رمضان المبارک کے پہلے دن کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔
قابض فوج کی توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرقی محلوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسی دوران غزہ کی پٹی کے شمالی قصبے بیت حانون میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کے نئے واقعات بھی سامنے آئے۔
غزہ کی پٹی کے جنوب میں، قابض اسرائیل کی جانب سے خان یونس اور رفح کے علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ جنگی طیارے نچلی پروازیں بھرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی توپ خانے نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی، اور نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج کے ٹینکوں نے شہر کے مشرقی علاقوں کی طرف بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
غزہ کی پٹی رمضان المبارک کے پہلے دن کا استقبال سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جاری یومیہ خلاف ورزیوں کے سائے میں کر رہی ہے، جبکہ ہزاروں خاندان اب بھی خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی شدید قلت کا شکار ہیں، اور اقوام متحدہ گذشتہ مہینوں کے دوران غزہ کے بعض علاقوں میں قحط پھیلنے کا اعلان کر چکی ہے۔
سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک قابض افواج اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 634 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہیں جن میں 195 بچے اور 84 خواتین شامل ہیں، جبکہ 1630 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک قابض افواج 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکی ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ وسیع پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔