مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطین میں دیوارِ فاصل اور آباد کاری کے خلاف مزاحمتی کمیشن کے سربراہ وزیر مؤید شعبان نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت نابلس کے شمال مغرب میں واقع دو قصبوں سبسطیہ اور برقہ کی تقریباً دو ہزار دونم اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ اراضی ہتھیانے کے اس فیصلے میں علاقے کے تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
منگل کی شام جاری کردہ ایک بیان میں مؤید شعبان نے وضاحت کی کہ اراضی پر قبضے کا یہ باضابطہ حکم اس سے قبل 18 جنوری سنہ 2025ء کو جاری ہونے والے حکم نامہ نمبر (2/25) کے تسلسل میں ہے جس میں غاصب صہیونی ریاست نے اراضی قبضے میں لینے کی نیت کا اظہار کیا تھا، تاہم اس وقت مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سبسطیہ میں آثار قدیمہ کے مقام پر قبضے کا حکم جاری کرنا آباد کاری کے مقاصد کے حصول کے لیے قانونی حربوں کے انتخابی استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی قانون میں اراضی پر قبضے کا تصور عوامی مفاد اور مقامی آبادی کی بلا امتیاز خدمت کے لیے ہوتا ہے، جبکہ موجودہ عمل زمین پر عملی کنٹرول جمانے اور اسے محض آباد کاروں کے مفاد کے لیے وقف کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام عوامی مفاد کے آلے کو آباد کاری کی بنیاد پر مفادات کی دوبارہ تقسیم کے ذریعے غیر قانونی عمل میں بدل دیتا ہے، جس سے انتظامی غلاف کے نیچے چھپے الحاق کے اس میکانزم کا اصلی چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
مؤید شعبان نے اشارہ کیا کہ اتھارٹی نے پہلے اس مقام کا رقبہ 1473 دونم لگایا تھا جو کہ مکانی بنیادوں پر ایک تخمینہ تھا، کیونکہ اس وقت قبضے کے ارادے کے اعلان میں رقبے کا درست تعین نہیں کیا گیا تھا بلکہ نقشوں اور حتمی پیمائش کی تفصیلات کے بغیر عمومی حدود بتائی گئی تھیں۔ چنانچہ آج جاری ہونے والا حکم نامہ نمبر (26/1) کوئی الگ یا نیا اقدام نہیں ہے، بلکہ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں نشانہ بنائی گئی زمین کا اصل حجم ظاہر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبضے کے ارادے کے اعلان سے باضابطہ حکم نامے کی طرف منتقلی اور رقبے کا درست تعین اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں جو کچھ ہوا وہ بتدریج عمل کا ایک ابتدائی مرحلہ تھا جو بظاہر قانونی لگتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد آثار قدیمہ کے مقام اور اس کے جغرافیائی گرد و نواح پر قانونی اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ نشانہ بنائے گئے رقبے کا 2000 دونم تک پہنچ جانا یہ واضح کرتا ہے کہ یہ حملہ صرف آثار قدیمہ کے مقام تک محدود نہیں بلکہ اس کے گرد و نواح تک پھیلا ہوا ہے، جس کے اثرات سبسطیہ اور برقہ کی زرعی زمینوں پر بھی پڑیں گے۔
مؤید شعبان نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی سرزمین میں دراندازی کے لیے آثار قدیمہ کے لبادے کا استعمال مغربی کنارے میں زمینی الحاق کے ان وسیع تر عزائم کی عکاسی کرتا ہے جو بظاہر تنظیمی یا ثقافتی ورثے کے قانونی و انتظامی اوزاروں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کا مقصد زمین پر قبضے کی نئی انجینئرنگ کرنا ہے۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ نشانہ بنائی گئی زمین کے اصل رقبے کا انکشاف اس سفاکیت کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ سفارتی اور انسانی حقوق کی سطح پر بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ثقافتی ورثے کو زمین پر قبضے کے لیے استعمال کرنے کے صہیونی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ آثار قدیمہ کے مقامات کا تحفظ زمین اور قومی تشخص کے تحفظ کا لازمی حصہ ہے، اور ورثے کو قبضے یا الحاق کے آلے میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا تمام دستیاب قانونی اور قومی ذرائع سے مقابلہ کیا جائے گا۔