ہوم 3 featured غزہ میں قابض اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید، متعدد زخمی

غزہ میں قابض اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید، متعدد زخمی

0
غزہ میں قابض اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید، متعدد زخمی
(241014) -- GAZA, Oct. 14, 2024 (Xinhua) -- A Palestinian walks on a street with buildings destroyed by Israeli strikes in the southern Gaza Strip city of Khan Younis, on Oct. 13, 2024. (Photo by Rizek Abdeljawad/Xinhua)

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مقام پر آج بدھ کے روز قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا، جبکہ رمضان المبارک کے پہلے دن کے آغاز پر ہی قابض دشمن نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی، زمینی اور بحری حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ خان یونس شہر کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ چوک کے قریب قابض اسرائیل کی فائرنگ سے 20 سالہ نوجوان مہند جمال محمد النجار شہید ہو گیا۔

قابض فوج کے توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرقی محلوں کو نشانہ بنایا اور اسی دوران غزہ کی پٹی کے شمالی قصبے بیت حانون میں رہائشی عمارتوں کو بارود سے اڑانے (نسف) کی نئی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس اور رفح کے شہروں پر قابض اسرائیل نے سلسلہ وار فضائی حملے کیے جبکہ جنگی طیارے نچلی پروازیں بھرتے رہے۔ علاوہ ازیں توپ خانے نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی اور صحافتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض فوج کے ٹینکوں نے شہر کے مشرقی حصوں پر بھاری مشین گنوں سے شدید فائرنگ کی۔

غزہ کی پٹی رمضان المبارک کے پہلے دن کا استقبال سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جاری روزانہ کی خلاف ورزیوں کے سائے میں کر رہی ہے، جبکہ ہزاروں خاندان اب بھی خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی شدید ترین قلت کا شکار ہیں، اور اقوام متحدہ گذشتہ مہینوں کے دوران غزہ کے بعض علاقوں میں قحط کے پھیلاؤ کا باقاعدہ اعلان کر چکی ہے۔

سیز فائر معاہدے کے آغاز سے اب تک قابض افواج اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 634 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہیں جن میں 195 بچے اور 84 خواتین شامل ہیں جبکہ 1630 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک قابض افواج 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور تقریباً ایک لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکی ہیں جبکہ 8 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ مزید برآں شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی دوبارہ تعمیر کے اخراجات کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔