مرکزاطلاعات فلسطین
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ امن کونسل کا افتتاحی اجلاس جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوا۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر ردعمل پیدا کیا ہے اور غزہ کی پٹی میں اس نئے جسم کے اہداف اور مستقبل کے کردار کے حوالے سے موقف میں واضح تفاوت پایا جاتا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں منعقدہ اس سرکاری نشست میں 47 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد غزہ میں امدادی کوششوں کی تقویت، تعمیر نو اور سیز فائر کے انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔
اربوں ڈالر کی فنڈنگ
اس موقعے پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ امن کونسل کے ذریعے غزہ کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دیگر ممالک نے فلسطینی علاقے کے لیے ریسکیو پیکیج کے طور پر 7 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تشکیل کردہ امن کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت نے امدادی پیکیج میں مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ جاپان نے غزہ کے لیے فنڈز جمع کرنے کا عہد کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) مزید 2 ارب ڈالر جمع کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جاپان ایک فنڈ ریزنگ مہم کی میزبانی کا پابند ہے جو کہ بہت بڑی ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ذکر کیا کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) غزہ میں منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ناروے بھی امن کونسل کی ایک تقریب کی میزبانی کرے گا، تاہم ناروے نے واضح کیا ہے کہ وہ کونسل میں شامل نہیں ہوا ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم غزہ کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور خرچ ہونے والا ہر ڈالر امید میں سرمایہ کاری ہے، لیکن انہوں نے ان فنڈز کے اخراجات کی تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا کانگریس نے اس 10 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے جس کا انہوں نے کونسل کے لیے اعلان کیا ہے۔
متعدد عرب ممالک نے غزہ کے حوالے سے مالی، سیاسی اور لاجسٹک وعدوں کا اعلان کیا۔ قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد آل ثانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قطر ثالثی کی کوششوں کے لیے پرعزم ہے اور انہوں نے کونسل کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے غزہ کی پٹی کی حمایت میں 1.2 ارب ڈالر دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ابراہیمی معاہدے خطے کے بہتر مستقبل کی جستجو کا حصہ ہیں۔
مراکشی وزیر خارجہ ناصر بوريطہ نے غزہ میں سکیورٹی، پولیس فورس اور اعلیٰ سطح کے افسران کی تعیناتی، ایک فیلڈ ہسپتال کے قیام اور نفرت انگیز تقریر کے خاتمے اور بقائے باہمی کے پروگراموں میں شرکت کے لیے اپنے ملک کی آمادگی ظاہر کی۔
مصری وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا اور مغربی کنارے کے الحاق کو مسترد کرنے اور خطے کے لوگوں کے درمیان بقائے باہمی کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے عزم کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کا عہد کرتا ہے۔
کویتی وزیر خارجہ جراح جابر الاحمد الصباح نے آئندہ برسوں کے دوران ایک ارب امریکی ڈالر کے تعاون کا اعلان کیا تاکہ غزہ میں امن کونسل کی کوششوں کی حمایت کی جا سکے اور فلسطینی عوام کی تکالیف دور کرنے اور غزہ کی پٹی میں امن و استحکام کے حصول کے لیے کویت کے ثابت قدم عزم کی تصدیق کی جا سکے۔
اسلحہ اور پولیس کی بھرتی
دوسری جانب امن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف نے کہا کہ ہمارے پاس غزہ کو اسلحہ سے پاک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں عبوری پولیس اہلکاروں کے طور پر کام کرنے کے لیے 2000 افراد نے درخواست دی ہے اور ہم نے فلسطینی پولیس میں عناصر کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے، ہم قابض اسرائیل اور فلسطینی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔
سروسز کی بحالی
ادارہ برائے انتظام غزہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعت نے کہا کہ ہم پٹی میں استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں پائیدار امن کی بنیادیں بنانے کے لیے قدم بہ قدم کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں بنیادی خدمات کی بحالی اور معیشت کی دوبارہ فعالی پر کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ میں ایک اتھارٹی اور ایک ہتھیار کے تحت سکیورٹی کی بحالی پر کام کر رہے ہیں، تاہم غزہ کی صورتحال نازک ہے اور ہم غیر معمولی ماحول میں کام کر رہے ہیں۔
یہ اقدام غزہ کے باشندوں کی ہنگامی ضروریات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے جو مسلسل جاری جنگ کے نتائج، بنیادی خدمات کی کمی اور انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی کا شکار ہیں۔ سیز فائر کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حقیقی اور ٹھوس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے غزہ میں عبوری مرحلے کے انتظام، دھڑوں کے اسلحہ، انسانی امداد کی فراہمی اور خطے میں امن کے وسیع تر سیاسی راستوں کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا۔
امن کونسل کے تصور کو بین الاقوامی سطح پر تنقید اور تحفظات کا سامنا بھی ہے، جہاں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور کونسل کے درمیان تعلق اس کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ بعض دارالحکومتوں بشمول اہم یورپی ممالک نے اہداف واضح نہ ہونے کی وجہ سے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔



