spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

ماہ صیام کے تیسرے روزتقریباً 60 ہزار نمازیوں کی مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں نماز عشاء اور تراویح کی ادائیگی

مرکزاطلاعات فلسطین

مقبوضہ بیت المقدس میں جمعرات کی شام تقریباً 60 ہزار فرزندان اسلام نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے پرنور احاطے میں نماز عشاء اور تراویح ادا کی۔

بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے محکمے نے بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے نمازیوں کے داخلے پر عائد سخت پابندیوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے باوجود 60 ہزار افراد مسجد اقصیٰ پہنچنے میں کامیاب رہے۔ قابض اسرائیل نے مغربی کنارے سے آنے والے شہریوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی تھی۔

قابض اسرائیل نے افطار کے لیے لائے جانے والے کھانوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں یہاں تک کہ ان شہریوں کو بھی روکا گیا جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ افطاری کے لیے گھروں سے کھانا تیار کر کے لائے تھے۔

بیت المقدس کی فلسطینی تنظیموں کی جانب سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کی طرف رخت سفر باندھنے اور وہاں اعتکاف و رباط (پہرہ دینے) کو تیز کرنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ ان اپیلوں کا مقصد قابض اسرائیل کے ان بڑھتے ہوئے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہے جن کے تحت مسجد اقصیٰ کو اس کے وفاداروں سے خالی کر کے اسے فلسطینی ماحول سے الگ تھلگ کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

بیت المقدس کی سماجی اور مذہبی شخصیات نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس وقت مسجد اقصیٰ کی طرف سفر کرنا ایک قومی اور دینی فریضہ ہے۔ یہ مقدس شہر کے گرد لگائے گئے محاصرے کو توڑنے اور مسجد کے دروازوں پر قابض اسرائیل کی جانب سے اختیار کی جانے والی تضییق اور نمازیوں کو روکنے کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔

فلسطینی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں انتہا پسند ہیکل گروپوں کے منصوبے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ یہ گروہ عبرانی تہواروں کا سہارا لے کر مسجد اقصیٰ پر دھاووں کی رفتار تیز کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف فوجی رکاوٹوں اور عمر کی پابندیاں عائد کر کے مسلمان نمازیوں کی تعداد کم کرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے رمضان المبارک کے آغاز ہی سے مسجد اقصیٰ تک رسائی پر کڑی پابندیاں لگا رکھی ہیں تاکہ وہاں ایک نیا جبری زمینی حقائق (امر واقع) مسلط کیا جا سکے۔

spot_imgspot_img