spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

فلسطین میں صدقہ فطر کی مقدار 10 شواقل مقرر: دار الافتاء

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطین کے دار الافتاء نے رواں برس سنہ 1447ھ بمطابق سنہ 2026ء کے لیے صدقہ فطر کی مقدار (10 شیقل) مقرر کی ہے، جبکہ روزے کا فدیہ اوسط درجے کے دو وقت کے کھانے کے برابر طے کیا ہے، بشرطیکہ ان کی قیمت صدقہ فطر کی مقررہ مقدار سے کم نہ ہو۔

دار الافتاء نے اشارہ کیا ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب (7000 اردنی دینار) مقرر کیا گیا ہے، جس کی بنیاد سنہ 1446ھ کے آغاز سے لے کر ماہ شعبان سنہ 1447ھ کے آخری ہفتے تک مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی اوسط قیمت پر رکھی گئی ہے۔

اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحب استطاعت مسلمان پر اپنی اور اپنے زیر کفالت مسلمانوں بشمول بڑے اور بچوں کی طرف سے صدقہ فطر فرض کیا ہے۔ جیسا کہ سنت نبوی سے واضح ہے کہ صدقہ فطر کی مقدار مدینہ منورہ کے صاع کے حساب سے ایک صاع ہے، اور جمہور فقہا کے نزدیک وزن کے لحاظ سے اس کی مقدار کم از کم (2176 گرام) یعنی (2 کلوگرام اور 176 گرام) بنتی ہے، جو کہ ملک کی عام خوراک جیسے گندم، روٹی اور آٹے کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔ فقہ حنفی کے نزدیک اسے نقدی کی صورت میں نکالنا بھی جائز ہے اگر یہ دینے والے کے لیے آسان اور لینے والے کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، اور صدقہ فطر کے وجوب کے لیے غنی ہونا یا نصاب تک پہنچنا شرط نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس ایک دن اور رات کی خوراک سے زائد مال موجود ہو۔

سپریم افتاء کونسل کی رائے میں صدقہ فطر کی نقدی صورت میں ادائیگی (دس شواقل یا دیگر کرنسیوں میں اس کے برابر) جائز ہے تاکہ دینے اور لینے والے کے لیے آسانی ہو اور جو شخص اپنی خوشی سے اس سے زیادہ دینا چاہے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ کونسل نے رمضان المبارک کے دوران صدقہ فطر کی جلد ادائیگی کی بھی اجازت دی ہے تاکہ غریب اور مساکین اپنی ضروریات زندگی بروقت پوری کر سکیں، اور اس حوالے سے زکوٰۃ الفطر کے وقت ادائیگی کے متعلق متعدد اقوال موجود ہیں۔

کونسل نے واضح کیا کہ صدقہ فطر کے ثمرات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ روزے دار کے لیے پاکیزگی اور عید کے دن غریبوں کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ وہ مریض جو دائمی مرض میں مبتلا ہو جس سے شفا کی امید نہ ہو، یا وہ معمر شخص جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے فدیہ ادا کرے (ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائے)، اور اس فدیہ کی قیمت صدقہ فطر کی قیمت سے کم نہیں ہونی چاہیے، جبکہ فدیہ دینے والے خاندان کے اپنے کھانے پینے کے معیار کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ زکوٰۃ کا نصاب سونے اور چاندی سے طے کیا جاتا ہے؛ سونے کا نصاب بیس مثقال اور چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سونے کے لیے مثقال یا دینار اور چاندی کے لیے درہم کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ کونسل کی رائے ہے کہ نقدی رقوم کی زکوٰۃ کے نصاب کے لیے سونے کو بنیاد بنایا جائے۔ چونکہ جمہور فقہا کے نزدیک ایک مثقال (طلائی دینار) (4.25 گرام) کے برابر ہوتا ہے، اس طرح سونے کا نصاب (85 گرام) بنتا ہے۔

مذکورہ ہجری سال کے دوران مقامی مارکیٹوں میں سونے کی اوسط قیمت کی بنیاد پر، جس میں 24 قیراط سونے کے ایک گرام کی قیمت تقریباً (83 اردنی دینار) رہی، زکوٰۃ کے نصاب کی مقدار (7055 دینار) بنتی ہے، تاہم کونسل نے نصاب کو (7000 اردنی دینار) یا دیگر کرنسیوں میں اس کے برابر کی رقم پر طے کیا ہے۔

کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تخمینہ دیگر ادوار میں زکوٰۃ نکالتے وقت سونے کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے مطابق تبدیلی کے تابع ہے اور زکوٰۃ کے لیے سال گزرنے کا اعتبار قمری مہینوں کے مطابق کیا جائے گا۔

spot_imgspot_img