مرکزاطلاعات فلسطین
اتوار کی شام ایک ویڈیو کلپ منظر عام پر آیا ہے جس میں ایک غاصب اسرائیلی آباد کار کو مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے مسافر یطا میں ایک فلسطینی شہری کے گھر میں گھستے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ حملہ ان بڑھتے ہوئے منظم حملوں کا حصہ ہے جو غاصب آباد کار اس علاقے میں فلسطینی آبادیوں کے خلاف مسلسل کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہودی آباد کار خیموں، لوہے کی چادروں اور غاروں پر مشتمل بدوؤں کی بستیوں میں دندناتا پھر رہا ہے اور پھر وہ اپنے گدھے سمیت ایک گھر کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ یہ شرمناک منظر ان انسانی حقوق کی پامالیوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا شکار یہاں کے نہتے مکین روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
الخلیل کے جنوبی علاقوں میں غاصب اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والے سماجی کارکن اسامہ مخامرہ نے یہ ویڈیو کلپ نامہ نگاروں کو فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نوعیت کے حملے اب روزانہ کا معمول بن چکے ہیں اور بسا اوقات ایک ہی دن میں کئی بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔
اسامہ مخامرہ نے اناطولیہ ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ آباد کار نے اپنے گدھے اور بھیڑوں کے ہمراہ "خربہ الرکیز” نامی بستی پر دھاوا بولا اور فلسطینی شہریوں کی نجی زندگی اور حرمت کو پامال کرتے ہوئے ان کے گھروں میں گھس گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جس گھر کو نشانہ بنایا گیا وہ محمد النجار نامی شہری کی ملکیت ہے جسے روزانہ غاصب صہیونیوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہ آباد کار اپنی مویشیوں کو محمد النجار اور دیگر شہریوں کے گھروں کے قریب چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غاصب آباد کاروں نے خربہ الرکیز ہی میں سعید العمور نامی شہری کی زمین کے گرد لگی باڑھ کو بھی کاٹ کر چوری کر لیا تاکہ مقامی آبادی کا جینا دوبھر کیا جا سکے۔
مخامرہ کے مطابق یہ حملے ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں پر شدید دباؤ ڈال کر انہیں ان کے آباؤ اجداد کی زمینوں اور دیہاتوں سے بے دخل کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ غاصب آباد کاروں نے پانی کے کنوؤں، زمینوں اور زرعی فصلوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ درختوں کو بھی کاٹ دیتے ہیں، تاہم ان تمام مظالم کے باوجود فلسطینی اپنے حق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
غاصب اسرائیلی فوج کے کردار کے حوالے سے مخامرہ نے کہا کہ وہ فلسطینی شہریوں کی پکار پر کوئی کان نہیں دھرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کبھی فوج آ بھی جائے تو الٹا اسی فلسطینی شہری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے جس نے شکایت کی ہوتی ہے، کیونکہ غاصب آباد کار جھوٹا دعویٰ کر دیتا ہے کہ اسے نکالنے یا اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک اور الگ حملے میں مخامرہ نے بتایا کہ غاصب آباد کاروں نے خربہ الحلاوہ بستی میں احمد اسماعیل ابو عرام نامی شہری کے سولر پینلز توڑ دیے اور وہاں موجود ایک عمر رسیدہ خاتون پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی۔
دیوار و آباد کاری مزاحمتی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق غاصب آباد کاروں نے سنہ 2026 کے ماہ جنوری کے دوران مغربی کنارے میں 468 حملے کیے جن میں جسمانی تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، کھیتوں کو آگ لگانا، کسانوں کو ان کی زمینوں تک جانے سے روکنا اور املاک پر قبضہ کرنا شامل ہے۔
اکتوبر 2023 ک میں غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی یہودی آباد کاروں کے حملوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ ان کارروائیوں میں قتل، گرفتاریاں، جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع شامل ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 1117 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 500 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مشرقی القدس سمیت مجموعی طور پر تقریباً 22 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔



