مرکزاطلاعات فلسطین
امریکی سینٹرل کمانڈ "سینٹ کام” نے پیر کے روز اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ وحشیانہ جارحیت میں شریک اس کے 4 فوجی ہلاک اور 3 جنگی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔
امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری کردہ تازہ ترین بیان میں "سینٹ کام” نے بتایا کہ 2 مارچ کی صبح ساڑھے سات بجے (ایسٹرن ٹائم) تک جاری رہنے والی جنگی کارروائیوں کے دوران امریکہ کے چار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل "سینٹ کام” نے اتوار کے روز 3 فوجیوں کی ہلاکت اور 5 کے شدید زخمی ہونے کی خبر دی تھی۔ پیر کو جاری بیان میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ "چوتھا فوجی جو ایرانی جوابی حملوں کے آغاز میں شدید زخمی ہوا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے۔”
علاوہ ازیں "سینٹ کام” نے کویت کی فضائی حدود میں امریکہ کے تین ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کے گر کر تباہ ہونے کی بھی تصدیق کی۔ ان طیاروں کی تباہی کی وجہ بظاہر "فرینڈلی فائر” یعنی اپنے ہی ساتھیوں کی غلط فائرنگ کے نتیجے میں پیش آنے والا حادثہ قرار دی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتہ کی صبح سے قابض اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں تادم تحریر رہبر معظم علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ سکیورٹی حکام سمیت سینکڑوں معصوم شہری اور اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
تہران کی جانب سے اس سفاکیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے قابض اسرائیل اور خطے میں موجود ان امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے جا رہے ہیں جنہیں تہران امریکی فوجی ٹھکانے قرار دیتا ہے۔ تاہم ان جوابی حملوں کے دوران بعض مقامات پر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کی خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے مذمت کی ہے۔
ایران کے خلاف یہ تازہ جارحیت ایک ایسے حساس وقت میں کی جا رہی ہے جب عمانی ثالث کی گواہی کے مطابق تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی تھی۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست نے مذاکرات کی میز کو الٹ کر خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلا ہے، اس سے قبل سنہ 2025ء کی جون میں شروع ہونے والی جنگ کے موقع پر بھی قابض اسرائیل نے اسی طرح مذاکرات سے انحراف کیا تھا۔



