spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

القدس کو صہیونی کالونیوں میں تبدیل کرنے کی مہم، ایک ماہ میں 20 نئے آبادکاری منصوبے

 

مرکزاطلاعات فلسطین

میدان میں نئے حقائق مسلط کرنے کی دیوانہ وار دوڑ میں القدس میں قابض اسرائیل کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جن میں کالونیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی جارحیت میں شدت شامل ہے۔ یہ صورتحال فلسطینی حکام کے مطابق شہر کو ڈیموگرافک اور جغرافیائی طور پر دوبارہ تشکیل دینے کے لیے ایک منظم سیاسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

القدس گورنری نے پیر کے روز بتایا کہ قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ فروری کے دوران شہر میں 20 نئے آبادکاری منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جسے اس نے گورنری پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے مقصد سے جاری استعماری پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا۔

گورنری نے خلاف ورزیوں کی نگرانی کے بارے میں اپنی ماہانہ رپورٹ میں واضح کیا کہ اس نے اسرائیلی سرکاری اعلانات اور القدس میں قابض بلدیہ کی روزمرہ کی پیروی کی بنیاد پر ان منصوبوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ اس نے نشاندہی کی کہ منصوبوں میں تعمیرات، اراضی پر قبضہ اور آبادکاری توسیع شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق 7 منصوبے جمع کرائے گئے ہیں، جو حتمی منظوری سے پہلے کا مرحلہ ہے، اور ان میں تقریبا 960 دونم اراضی پر 613 آبادکاری یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ 5 دیگر منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن میں 40 دونم اراضی پر 51 آبادکاری یونٹس کی تعمیر شامل ہے، جبکہ ٹینڈر کے لیے ایک منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں 231 آبادکاری یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔

آباد کاروں کی جارحیت میں شدت

متوازی طور پر گورنری نے اسی ماہ القدس میں آباد کاروں کی جانب سے کی گئی 47 جارحانہ کارروائیوں کا پتہ لگایا ہے، جن میں جسمانی تشدد کے 9 واقعات شامل ہیں، جن میں سے ایک کے نتیجے میں شہر کے شمال میں واقع بلدہ مخماس کے نوجوان نصر اللہ ابو صیام شہید ہو گئے۔

ان حملوں میں فائرنگ، املاک کو آگ لگانا، راستے بند کرنا، چرواہوں کا تعاقب، گھروں پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کرنا اور گرجا گھروں پر حملے شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق یہ سب قابض افواج کے براہ راست تحفظ میں ہوا۔

گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنا استعماری گروہوں اور انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے درمیان کرداروں کے باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے تاکہ میدان میں نئے حقائق مسلط کیے جا سکیں اور شہر میں موجودہ صورتحال کو کمزور کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں، دیوار اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے سنہ 2025ء کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ قابض حکام کے ماتحت منصوبہ بندی کمیٹیوں نے القدس میں 107 ساختی منصوبوں کا مطالعہ کیا، جن میں سے 41 منصوبے قابض بلدیہ کی حدود سے باہر ہیں، اور 66 بلدیہ کی طرف سے شہر کے لیے کھینچی گئی حدود میں واقع بستیوں کے اندر ہیں۔

فلسطینی حکام کا خیال ہے کہ منصوبوں کی منظوری میں تیزی اور استیطانی ٹینڈروں کے اجراء میں شدت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیل علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی حالات کا فائدہ اٹھا کر القدس میں ایک وسیع تر استیطانی حقیقت کو قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ دو ریاستی حل پر مبنی کسی بھی مستقبل کے سمجھوتے کے امکانات کو محدود کیا جا سکے۔

spot_imgspot_img