spot_img
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img

متعلقہ خبریں

مزید خبریں

لبنان پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، کم از کم 30 ہزار شہری بے گھر

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی...

جنوبی لبنان کے 80 دیہاتوں کو خالی کرنے کا اسرائیلی حکم

مرکزاطلاعات فلسطین قابض اسرائیلی فوج نے کچھ دیر قبل جنوبی...

خان یونس میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

مرکزاطلاعات فلسطین غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ...

گزرگاہوں کی بندش سے غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین اور طبی انخلاء کا عمل متاثر: اقوام متحدہ

مرکزاطلاعات فلسطین

اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوچا) نے ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے براہِ راست اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں انسانی صورتحال تباہ کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ مصر کے ساتھ ملحقہ رفح بارڈر کراسنگ سمیت تمام گزرگاہوں کی بندش اور نقل و حمل پر عائد سخت پابندیوں نے امدادی رسد کو مفلوج کر دیا ہے۔

اوچا نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے عملے کی تبدیلی کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے جس کے باعث بیماروں کے طبی انخلاء اور شہریوں کی واپسی کا عمل معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مکمل محاصرے کا تسلسل امدادی سامان کی ترسیل کے مکمل طور پر ٹھپ ہونے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ایندھن کے ذخائر میں شدید کمی کے باعث اس کا استعمال انتہائی محدود کر دیا گیا ہے جس نے بیکریوں، ہسپتالوں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کے کام کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں میں کچرا ٹھکانے لگانے کی خدمات بھی معطل ہو چکی ہیں۔ بیان کے مطابق غزہ کے بعض علاقوں میں شہریوں کو پینے کے لیے روزانہ صرف دو لیٹر پانی میسر ہے جبکہ بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے دفتر نے واضح کیا کہ بیشتر فوجی ناکوں کی بندش نے فلسطینیوں کی نقل و حمل کو روک دیا ہے جس سے ان کے ذرائع معاش اور بنیادی خدمات تک رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اوچھا نے عالمی انسانی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ اور امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ اتوار کو نام نہاد "وحدتِ رابطہ کار برائے حکومتی سرگرمیاں” نے رفح سمیت متعدد گزرگاہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس نے پہلے سے تباہ حال غزہ کے مکینوں پر دباؤ اور ان کی تنہائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ قابض حکام کا یہ فیصلہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے اور اس پر تہران کے جوابی ردعمل کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے فلسطینیوں پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے قبل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض حکومت کے رابطہ کار نے اعلان کیا تھا کہ آج منگل سے کرم ابو سالم بارڈر کراسنگ کو انسانی امداد کی بتدریج واپسی کے لیے کھولا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گذشتہ روز پیر کو قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولے تاکہ دو سال سے زائد عرصے سے جاری نسل کشی کی جنگ سے تباہ حال غزہ میں امداد پہنچائی جا سکے۔ ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے تمام گزرگاہوں کو جلد از جلد کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی قلت کے باعث ہمارے شراکت داروں کو صرف جان بچانے والے کاموں کو ترجیح دینی پڑ رہی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سے بند کی گئی گزرگاہوں میں رفح بارڈر کراسنگ بھی شامل ہے جو غزہ کے باسیوں کے لیے بیرونی دنیا کا واحد راستہ ہے جو قابض اسرائیل کے اندر سے ہو کر نہیں گزرتا۔ اسے گذشتہ 2 فروری کو محدود بنیادوں پر صرف زخمیوں کے لیے کھولا گیا تھا جب کہ اس سے قبل تقریباً دو سال تک یہ قابض اسرائیلی افواج کے جبری تسلط میں رہی تھی۔

کرم ابو سالم گزرگاہ غزہ میں مال برداری کا واحد راستہ ہے اور اس کی بندش سے 1.9 ملین بے گھر فلسطینیوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے جو اسرائیل کی جانب سے گھروں کی تباہی کے بعد خستہ حال خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

spot_imgspot_img