مرکزاطلاعات فلسطین
اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان کے مختلف علاقوں بالخصوص جنوبی حصوں، وادی بقاع اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور فضائی غارت گری کے نتیجے میں کم از کم 30 ہزار شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے ترجمان بابار بلوچ نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے کئی حصوں، بقاع اور بیروت کے جنوبی ضاحیہ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب قابض اسرائیلی افواج نے لبنان کی 53 سے زائد بستیوں اور دیہات کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں دیں اور ان علاقوں پر سنگدلانہ فضائی حملے کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز پیر تک کے تخمینوں کے مطابق کم از کم 30 ہزار افراد کو پناہ گاہوں میں رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد نے سڑکوں کے کنارے اپنی گاڑیوں میں رات بسر کی ہے۔
قاہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے علاقائی ڈائریکٹر سامر عبدالجابر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مزید بڑا اضافہ ہوگا۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے پیر سے لبنان پر اپنی وحشیانہ بمباری کی مہم تیز کر دی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 52 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کے لیے قابض اسرائیل پر معیاری میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
سامر عبدالجابر نے بتایا کہ لبنانی حکومت نے پیر سے پناہ گاہیں کھولنا شروع کر دی ہیں اور عالمی ادارہ خوراک وہاں موجود متاثرین کو تیار شدہ کھانا فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ جنگ کے باعث سمندری اور فضائی آمد و رفت متاثر ہوگی جس سے امدادی کارروائیاں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے عملے کی نقل و حرکت براہِ راست متاثر ہوگی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مشرق وسطیٰ میں سویلین آبادی پر جنگ کے اثرات پر گہری تشویش اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے ہوش کے ناخن لینے اور تشدد روکنے کی اپیل کی ہے۔ ان کی ترجمان راوینا شامدسانی نے جنیوا میں کہا کہ لاکھوں لوگوں میں خوف اور بے چینی کی لہر واضح ہے جس سے بچنا ممکن تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال لمحہ بہ لمحہ بگڑ رہی ہے اور ہمارے بدترین خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وولکر ترک ہفتے کے روز سے جاری اس تنازعے کے شہریوں اور سویلین انفراسٹرکچر پر پڑنے والے اثرات پر صدمے میں ہیں جو امریکہ اور قابض اسرائیل کے ایران پر حملوں اور پھر ایران کے جوابی ردعمل اور حزب اللہ کی شمولیت سے شروع ہوا۔
شامدسانی نے تاکید کی کہ جنگ کے قوانین واضح ہیں؛ شہریوں اور سویلین املاک کو ہر صورت تحفظ ملنا چاہیے اور تمام ریاستوں و عسکری گروپوں کو ان قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔
وولکر ترک نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبطِ نفس کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کو روکیں اور غیر ملکیوں سمیت تمام شہریوں اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ممکنہ اقدامات کریں۔ شامدسانی نے مزید کہا کہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہی قتل و غارت، تباہی اور مایوسی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2024ء کے اختتام پر قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سالہ جنگ کے بعد سیز فائر کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت قابض اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی افواج نکالنی تھیں لیکن اس نے پانچ تزویراتی مقامات پر اپنا قبضہ برقرار رکھا اور لبنان میں مسلسل ضربات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں اکثر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بیروت نے شدید امریکی دباؤ اور اسرائیلی سفاکیت کے پھیلاؤ کے خوف سے دریائے لیطانی کے جنوبی علاقوں کو حزب اللہ کے اسلحے سے پاک کرنے کا عہد کر رکھا تھا۔



