قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تعلیمی عمل کی بحالی میں رکاوٹ، تعلیمی نسل کشی کا تسلسل ہے

0
16

مرکزاطلاعات فلسطین

یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی پر فوجی جارحیت کے 28 ماہ گزرنے کے بعد بھی تعلیمی نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسی منظم اور دانستہ پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جن کا ہدف مقامی آبادی کو تعلیمی عمل کی بحالی سے محروم رکھنا ہے۔

آج جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں انسانی حقوق کے ادارے نے واضح کیا کہ ان پالیسیوں میں مسلسل محاصرہ، تعلیمی مراکز سمیت شہری تنصیبات کو بمباری اور تباہی کا نشانہ بنانا، تعمیر نو پر پابندی اور سکولوں و یونیورسٹیوں کی بحالی کے لیے ضروری سامان، مشینری اور آلات کی آمد میں رکاوٹیں ڈالنا شامل ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے لاکھوں طلبہ بڑے پیمانے پر اور مسلسل باقاعدہ تعلیم سے دور ہیں۔

ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال غزہ کی پٹی میں نظام تعلیم کو تباہ کرنے کے ایک منظم اسرائیلی نمونے کی عکاسی کرتی ہے۔ طلبہ، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو نشانہ بنانا اور تعلیمی مراکز کو تباہ کر کے انہیں غیر فعال کرنا تعلیمی نسل کشی کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے جس سے غزہ میں زندگی کے تمام اسباب ختم کر دیے جائیں۔ اس کا مقصد معاشرے کو سنبھلنے کی صلاحیت سے محروم کرنا اور جبری بے دخلی کے ذریعے آبادیاتی و سماجی ڈھانچے کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنا ہے۔

ادارے نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں جو تھوڑی بہت تعلیم باقی ہے وہ محض جزوی ہے اور ان تباہ حال سکولوں تک محدود ہے جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے زیر انتظام ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ محدود عوامی اقدامات اور عارضی نجی سکول ہیں جو زیادہ تر خیموں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں تحفظ اور مناسب تعلیمی ماحول کا فقدان ہے اور وہ مسلسل خطرات کے سائے میں کام کر رہے ہیں۔

تین تعلیمی سالوں کی بربادی

ادارے نے تصدیق کی کہ اس صورتحال کے نتیجے میں 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات باقاعدہ تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ منظم تعطل مسلسل تین تعلیمی سالوں پر محیط ہے جس سے علمی اور تربیتی خلا پیدا ہو رہا ہے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو طویل مدتی نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور مستقبل میں ملازمت کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔

یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے متنبہ کیا کہ اسرائیلی فوجی جارحیت نے تعلیمی شعبے میں جانی، مالی اور ڈھانچہ جاتی سطح پر ایسی تباہی مچائی ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ تعلیمی نسل کشی انسان اور ادارے دونوں پر ایک ساتھ حملہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک سکولوں کے 18,911 طلبہ اور یونیورسٹیوں کے 1,362 طلبہ شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں۔

اعداد و شمار کی تلخ حقیقت

ادارے نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں سکولوں کے 794 اساتذہ شہید اور 3,261 زخمی ہوئے، جبکہ یونیورسٹیوں کے 246 اساتذہ اور محققین شہید اور 1,491 زخمی ہوئے۔ یہ فلسطینی علمی نظام پر براہ راست حملہ ہے تاکہ معاشرے کی دوبارہ اٹھنے اور علم پیدا کرنے کی صلاحیت کو خشک کر دیا جائے۔

ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 668 سکولوں کی عمارتوں پر براہ راست بمباری کی، جن میں سے 179 سرکاری سکول مکمل طور پر تباہ اور 118 کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ انروا کے 100 سکولوں کو بھی تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔ یونیورسٹیوں کی 63 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں جبکہ باقی تمام جامعات اور کالجز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بیان کے مطابق غزہ کے 95 فیصد سکولوں کو مالی نقصان پہنچا ہے اور اندازہ ہے کہ 90 فیصد عمارتوں کو دوبارہ تعمیر یا بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے اکثر تعلیمی ادارے غیر فعال ہیں۔ یہ سب فوجی ضرورت کے نام پر نظام تعلیم کی مکمل تباہی ہے جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

بچے سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ

ادارے نے زور دیا کہ غزہ کے بچے جاری نسل کشی کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ ان کی تکلیف محض قتل اور زخمی ہونے تک محدود نہیں بلکہ اس میں والدین کی محرومی، بار بار کی جبری ہجرت، خوراک، پانی اور علاج کی کمی اور مسلسل بمباری کے خوف سے نفسیاتی صحت کی ابتری بھی شامل ہے۔ تعلیمی نسل کشی اس ہدف کا مرکزی حصہ ہے جو بچوں کو ان کی حساس عمر میں تعلیم سے دور کر کے انہیں بچپن میں ہی محنت مزدوری اور کم عمری کی شادیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔

مطالبات

یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا بند کیا جائے، محاصرہ ختم ہو اور تعمیر نو کے لیے ضروری سامان بشمول کتب، سٹیشنری، کمپیوٹرز اور پورٹیبل کلاس رومز (کرفان) کی آمد کی اجازت دی جائے۔

ادارے نے غزہ کے امور چلانے والی انتظامی کمیٹی اور متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم کو اولین ترجیح دیں اور ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی سال کی بحالی کا شفاف منصوبہ پیش کریں جس میں نفسیاتی مدد اور تعلیمی تلافی کے پروگرام شامل ہوں۔

اقوام متحدہ، یونیسکو اور انروا جیسے عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ علامتی اقدامات کے بجائے عملی مداخلت کریں اور نظام تعلیم کی بحالی کے لیے ہنگامی فنڈنگ اور تعلیمی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کا منصوبہ یقینی بنائیں۔

آخر میں ادارے نے کہا کہ اس حقیقت کا برقرار رہنا حقِ تعلیم کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے غزہ کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ساخت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے، جس کے لیے فوری عالمی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کو زندگی اور سیکھنے کے لیے محفوظ جگہ کے طور پر بحال کیا جا سکے۔