نابلس میں قابض اسرائیل کی دانستہ رکاوٹ کے باعث بزرگ فلسطینی شہید

0
22

مرکزاطلاعات فلسطین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے مشرقی قصبے بیت فوریک میں جمعرات کو ایک معمر فلسطینی اس وقت جام شہادت نوش کر گئے جب قابض اسرائیلی افواج نے دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کرنے کے عمل میں دانستہ رکاوٹ ڈالی۔

طبی ذرائع نے 78 سالہ بزرگ احمد حامد حننی کی شہادت کا اعلان کیا ہے جنہیں اس وقت دل کا دورہ پڑا جب قابض اسرائیلی افواج قصبے میں وحشیانہ یلغار کر رہی تھیں۔

مقامی کارکن علاء ملیطات نے بتایا کہ قابض دشمن کے سپاہیوں نے جان بوجھ کر حننی کو طبی مرکز منتقل کرنے میں تاخیر کی اور ایمبولینس کے عملے کو تقریباً ایک گھنٹے تک قصبے میں داخل ہونے سے روکے رکھا، جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی۔

بیت فوریک میں گھر گھر تلاشی اور سفاکیت

ملیطات نے مزید بتایا کہ قابض افواج گذشتہ آدھی رات سے قصبے میں بڑے پیمانے پر عسکری مہم چلا رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں فوجی گاڑیوں اور پیدل دستوں نے قصبے پر دھاوا بولا اور مسلسل 120 سے زائد گھروں میں گھس کر تلاشی لی۔ اس کارروائی کے دوران گھروں میں مقیم شہریوں کی زبردستی تصاویر بنائی گئیں اور متعدد گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔

جنین اور الخلیل میں زخمیوں کی اطلاع

دوسری جانب گذشتہ رات شمالی مغربی کنارہ کے شہر جنین کے وسطی علاقے میں قابض اسرائیل کی یلغار کے دوران پانچ فلسطینی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک نوجوان شامل ہے جس کی کمر میں لگنے والی گولی سینے سے پار ہو گئی اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

الخلیل کے جنوب میں واقع الفوار پناہ گزین کیمپ اور شہر کے بند علاقوں جابر اور سلايمہ محلوں میں گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک خاتون سمیت کئی فلسطینی زخمی اور لہو لہان ہوئے جنہیں قابض فوجیوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ تمام تر سنگین حالات ایک ایسے وقت میں پیش آ رہے ہیں جب قابض اسرائیلی افواج نے مسلسل چھٹے روز سے مغربی کنارہ میں مکمل تالہ بندی اور سخت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے ہی مسجد اقصیٰ اور الخلیل میں حرم ابراہیمی کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف محافظات میں گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور آباد کاروں کے حملوں میں بھی شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔