امریکی بحری بیڑے، فوجی اڈوں اور تل ابیب پر ایران کے میزائل و ڈرون حملے

0
21

مرکزاطلاعات فلسطین

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی فوج کی بحری اور فضائی حدود نے چھے روز سے جاری اسرائیلی و امریکی جارحیت کے جواب میں بعض کاری ضربیں لگائی ہیں جنہیں غیر معمولی فوجی آپریشن قرار دیا گیا ہے۔

خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی ڈرون طیاروں نے بحیرہ عمان میں ایران کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے والے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہام لنکولن کو نشانہ بنایا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی بحری بیڑہ ابراہام لنکولن، جو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے مقصد سے ایرانی سمندری حدود سے 340 کلومیٹر کے فوصلے تک پہنچ گیا تھا، پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ڈرون حملوں کی زد میں آگیا۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ ایرانی فوج کے ڈرون یونٹس نے کویت میں واقع العدیری کیمپ میں امریکی افواج کے ٹھکانوں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجی جواب کے طور پر سعودی عرب کے اندر واقع ایک امریکی بحری اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسی تناظر میں ایرانی فوج نے القدس شہر اور وسطی قابض اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق بن گوریون ہوائی اڈے کے قریب میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں۔

دوسری جانب تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ امریکی بمباری نے تہران میں آزادی اسپورٹس کمپلیکس کے انڈور ہال کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی دارالحکومت اور اس کے مغربی مضافات میں کی جانے والی شدید فضائی غارت گری کا حصہ تھی۔ آج شام تہران کے شمالی اور مغربی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ سرحدی صوبوں اور سنندج شہر میں بھی بمباری کی گئی۔

ایرانی پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی سرکاری رپورٹس کے مطابق چھے روز قبل شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی سفاکیت اور بمباری کے نتیجے میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 780 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایرانی انٹیلی جنس کے ایک ذریعے کے حوالے سے تسنیم نیوز ایجنسی نے نیویارک ٹائمز کی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ایرانی انٹیلی جنس اور امریکی سی آئی اے کے درمیان رابطوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایجنسی نے ان معلومات کو محض جھوٹ اور نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔

ایجنسی نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے واشنطن کو کسی قسم کا کوئی مفاہمتی پیغام نہیں بھیجا، بلکہ وہ اب ایک طویل مدتی جنگ یعنی حرب استنزاف کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنائی گئی سریع الفتح عسکری حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے، اور انہوں نے متنبہ کیا کہ اس کا کوئی بھی متبادل اس سے بھی بڑی ناکامی ثابت ہوگا۔