
مرکزاطلاعات فلسطین
یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کی جماعت ایران پر ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت اور معرکے کی تمام تر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس وقت مجاہدین کی انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔
اپنے ایک خصوصی خطاب میں عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمن کا سرکاری اور عوامی سطح پر یہ واضح موقف ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور وہاں کے مسلمان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دور حاضر میں امریکہ اور قابض اسرائیل ہی اصل طاغوت ہیں جو ہماری امت مسلمہ کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ کفر، شرک اور نفاق کی تمام تر قوتوں کو اس امت کے خلاف لیڈ کر رہے ہیں۔
انصار اللہ کے سربراہ نے اشارہ کیا کہ عصر حاضر کے یہ طاغوت فلسطین سے لے کر لبنان تک براہ راست اپنی ظالمانہ جارحیت مسلط کیے ہوئے ہیں، جبکہ شام کی مسلسل بے حرمتی، یمن کے خلاف ان کے ماضی کے اقدامات اور اب اسلامی جمہوریہ ایران پر ان کی حالیہ ہمہ گیر مجرمانہ جارحیت اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
عبدالملک الحوثی نے جاری واقعات کے غزوہ بدر کبریٰ کی یاد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کو ایک الہامی تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم تاریخی یادگار ان اہم ترین اسباق میں سے ہے جن کی ہماری امت کو آج درپیش خطرات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت اور اسلام سے وابستگی کی بنیاد پر ایک آزاد اور خود مختار امت بن کر ابھرے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کے دوسرے کونے سے ہمارے ملکوں میں صرف اپنی جارحیت اور ظلم لے کر آیا ہے اور اس کا حال بھی فلسطین میں موجود صہیونیوں جیسا ہی ہے۔
سید عبدالملک الحوثی نے تاکید کی کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کا اصل مقصد مشرق وسطیٰ اور خطے کے عوام پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کے حکمران کھلے عام مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے منصوبوں پر بات کر رہے ہیں تاکہ اس خطے میں غاصب صہیونی ریاست کی نسل کشی اور مظالم کو دوام بخشا جا سکے۔


