
مرکزاطلاعات فلسطین
ایران کی ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ اور قابض اسرائیل کے حملوں میں ملک بھر میں 6668 سول تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ان ضربات کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں جن میں رہائشی محلوں اور عوامی خدمات کے مراکز کو نشانہ بنا کر سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ متاثرہ اہداف کی فہرست میں 5535 رہائشی مکانات اور 1041 تجارتی مراکز شامل ہیں، اس کے علاوہ 14 طبی مراکز، 65 سکول اور ہلال احمر سوسائٹی کے 13 مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے۔ کئی امدادی گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں اور متعدد امدادی کارکن اس وقت زخمی ہوئے جب وہ بمباری والے علاقوں میں انسانی ہمدردی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
میدانی صورتحال کے حوالے سے ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی کہ مغربی صوبے کردستان کے شہر سقز میں امریکہ اور قابض اسرائیل نے لڑکیوں کے ایک سیکنڈری سکول کو نشانہ بنایا، جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ نے دارالحکومت تہران کے مغربی محلوں میں رہائشی علاقوں پر مسلسل بمباری کی اطلاع دی ہے۔
ہفتے کی صبح تہران میں پے در پے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو دارالحکومت کے اندر مقامات پر فضائی بمباری کے ساتھ ہم آہنگ تھیں۔ اسی طرح کی اطلاعات جنوب میں صوبہ ہرمزگان کے جزیرہ کیش سے بھی موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان کے ساحلوں کے قریب قابض اسرائیل کا ایک ہرمس 900 نامی ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو بھی ڈرون سے نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے جس نے اس علاقے میں جہاز رانی روکنے کے حوالے سے بار بار دی جانے والی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔
پاسداران انقلاب نے سنیچر کی فجر عراق کے صوبہ کردستان میں تین مقامات کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا جن کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ وہ علیحدگی پسند گروپوں کے ٹھکانے ہیں جو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی تسنیم ایجنسی نے بتایا کہ دفاعی نظام نے صوبہ اصفہان کی فضاؤں میں قابض اسرائیل کے ایک جاسوس طیارے اوربیٹر 4 کو کامیابی سے روک لیا۔
دوسری طرف عینی شاہدین نے وسطی اسرائیل کے علاقوں میں ایرانی میزائلوں کے براہ راست گرنے کی اطلاع دی ہے۔ قابض اسرائیلی فوج نے سنیچر کی فجر سے اب تک ایرانی میزائلوں کی دوسری لہر کی تصدیق کی ہے جس کے باعث تل ابیب، وسطی اسرائیل کے وسیع علاقوں اور مغربی کنارے کی بستیوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے باعث خطے میں غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایمریٹس ایئرلائن نے دبئی سے تمام پروازیں تادمِ حکم معطل کر دی ہیں۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے سائرن بجا کر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ قطر کی وزارت داخلہ نے سکیورٹی خطرے کی سطح کو بلند قرار دیتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل نے 28 فروری سنہ 2026ء سے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے جس میں تہران کے مطابق اب تک سینکڑوں ایرانی شہید ہو چکے ہیں جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور متعدد عسکری و سکیورٹی حکام شامل ہیں۔ جواب میں ایران قابض اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور خلیج و عراق میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

