غزہ میں نسل کشی کم شدت کے ساتھ اب بھی جاری ہے: انسانی حقوق مرکز

0
14

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی انسانی حقوق مرکز نے اس تلخ حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے اعلان کو چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نسل کشی کا جرم ایک منظم اور سوچی سمجھی خاموش حکمت عملی کے تحت مسلسل جاری ہے۔

آج جاری کی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں مرکز نے وضاحت کی کہ اکتوبر سنہ 2025ء میں معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک قتل و غارت کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔ قابض اسرائیل کی جانب سے بمباری، فائرنگ اور زبردستی انخلاء کے احکامات بدستور جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف فلسطینی عوام کو صحت کے نظام کی مکمل تباہی، طبی انخلاء میں رکاوٹوں، بھوک کے بحران اور پناہ گاہوں کی عدم دستیابی جیسے سنگین انسانی حالات میں جکڑ دیا گیا ہے۔

رپورٹ، جس کا عنوان ہی "نسل کشی کم شدت والے آلات کے ساتھ جاری ہے” رکھا گیا ہے، اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جرم کا انداز اب وسیع پیمانے کی عسکری تباہی سے منتقل ہو کر ایک ایسے منظم انتظام کی صورت اختیار کر گیا ہے جو آبادی کو مکمل تباہی کے دہانے پر رکھنے کو یقینی بناتا ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ "جنگ کے بعد کا مرحلہ” ابھی شروع نہیں ہوا بلکہ نسل کشی نے محض اپنی شکل بدلی ہے لیکن نتائج وہی ہولناک ہیں۔

مرکز نے ان جرائم کو معمول بنا لینے یا ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ عالمی برادری کی جانب سے قابض اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قوانین کا پابند بنانے میں ناکامی، مجرموں کو سزا سے بچنے کا موقع فراہم کرے گی اور سنگین خلاف ورزیوں کو سیاسی طور پر قابل قبول رویہ بنا دے گی۔

رپورٹ کے پہلے حصے میں میدانی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں کہ سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک لگ بھگ 600 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 160 سے زائد بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی براہ راست فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں 1500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

طبی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی بڑی تعداد اب بھی غیر فعال ہے اور خون، ادویات اور بنیادی طبی سامان کی شدید قلت ہے۔ جولائی سنہ 2024ء سے اب تک 1268 مریض بیرون ملک علاج کے انتظار میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں سینکڑوں زندگی بچانے والے کیسز شامل تھے۔ فروری سنہ 2026ء کے آغاز میں رفح کراسنگ کھلنے کے باوجود مریضوں کے سفر کی شرح ضرورت کے مقابلے میں صرف ایک تہائی رہی ہے، جو اموات کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیرِ نو کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، لاکھوں خاندان اب بھی خستہ حال خیموں یا خطرناک عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ تعمیراتی مواد کی بندش کی وجہ سے گھروں کی مرمت ناممکن بنا دی گئی ہے۔ خوراک اور ایندھن کی مصنوعی قلت نے بھوک کے بحران کو شدید کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے۔

مرکز کے مطابق قابض اسرائیل دانستہ طور پر غزہ میں زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا رہا ہے تاکہ لوگوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔ اعلیٰ تعلیم کے تمام اداروں کی تباہی کے بعد سینکڑوں طلباء بیرون ملک یونیورسٹیوں کا رخ کر رہے ہیں، جو غزہ کو اس کی بہترین صلاحیتوں اور نوجوانوں سے محروم کرنے کا ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے آخر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ محض زبانی مذمت کے بجائے فوری عملی اقدامات کرے، ایندھن، ادویات اور تعمیراتی مواد کی بغیر کسی شرط کے فراہمی یقینی بنائے اور قابض دشمن کے ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں احتساب کیا جائے تاکہ انسانیت کے خلاف یہ جاری خاموش نسل کشی رکی جا سکے۔