علاقائی تصادم کی آڑ میں اسرائیل کے لیے نئے امریکی گولہ بارود کی ڈیل کی منظوری

0
18

مرکزاطلاعات فلسطین

علاقائی کشیدگی میں اضافے اور ایران و قابض اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے براہ راست تصادم کے ساتھ ساتھ لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے قابض اسرائیل کے لیے 151.8 ملین ڈالر مالیت کے نئے گولہ بارود کے سودے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام ان سنگین حالات میں تل ابیب کے لیے مسلسل امریکی فوجی تعاون کا کھلا ثبوت ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سیاسی و عسکری امور کے بیورو کی درخواست پر جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس سودے کے تحت تقریباً 12 ہزار بموں کے ڈھانچے فروخت کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک کا وزن قریباً 470 کلوگرام ہے۔

جمہ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں متعلقہ دفتر نے دعویٰ کیا کہ اس مجوزہ فروخت سے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قابض اسرائیل کی صلاحیت میں بہتری آئے گی اور اس کے دفاع کو تقویت ملے گی جبکہ یہ علاقائی خطرات کے خلاف ایک رکاوٹ ثابت ہوگا۔ بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ اس سودے میں صرف گولہ بارود ہی نہیں بلکہ امریکی حکومت کی جانب سے انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی مدد بھی فراہم کی جائے گی جو کہ وسیع تر فوجی امدادی پیکیج کا حصہ ہے۔

اس سودے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ساتھ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا کہ بڑی امریکی دفاعی کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں چار گنا اضافے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے پہلے حملوں کے ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے۔

عام طور پر امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے تاہم وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک خصوصی استثنیٰ جاری کیا ہے جس کے تحت معمول کے قانون سازی کے طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے اس سودے کو آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام پر کانگریس کے اندر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اسلحہ کی برآمدات کے کنٹرول سے متعلق قانون کا سہارا لیتے ہوئے اس قدم کا دفاع کیا ہے۔ وزارت کا موقف ہے کہ وزیر خارجہ نے ایک ہنگامی صورتحال کا تفصیلی جواز پیش کیا ہے جس کے تحت امریکی قومی سلامتی کے مفادات کی خاطر قابض اسرائیل کی حکومت کو دفاعی سامان اور خدمات کی فوری فراہمی ناگزیر تھی۔

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کے رکن اور امور خارجہ کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ گریگوری میکس نے کانگریس کی نظرثانی کے بغیر اسلحہ کے سودے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مِیکس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم جنگ کے حوالے سے موجودہ انتظامیہ کے موقف میں واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ بارہا یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ وہ اس تصادم کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کو بائی پاس کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات کے استعمال میں عجلت ایک بالکل مختلف کہانی سنا رہی ہے اور یہ صورتحال خود ٹرمپ انتظامیہ کی پیدا کردہ ایک ہنگامی حالت ہے۔